(۲۷۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ صَدَقَۃَ بْنِ یَسَارٍ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ حَکِیمٍ: أَنَّہُ رَأَی عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ یَرْجِعُ مِنْ سَجْدَتَیْنِ مِنَ الصَّلاَۃِ عَلَی صُدُورِ قَدَمَیْہِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ: إِنَّہَا لَیْسَتْ بِسُنَّۃِ الصَّلاَۃِ ، وَإِنَّمَا أَفْعَلُ ذَلِکَ مِنْ أَجْلِ أَنِّی أَشْتَکِی۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک فی الموطاء ۲۰۱]
(٢٧٦٢) مغیرہ بن حکیم فرماتے ہیں کہ انھوں نے عبداللہ بن عمر (رض) کو نماز پڑھتے دیکھا۔ آپ نماز میں دو سجدوں کے بعد اپنے پاؤں پر ہی کھڑے ہوجاتے تھے، جب انھوں نے نماز سے سلام پھیرا تو میں نے ان کے سامنے (جلسہ استراحت کا) ذکر کیا تو انھوں نے فرمایا : یہ کوئی نماز کی سنت نہیں ہے، میں تو کبھی کبھی اس لیے کرتا ہوں کہ میں تھک جاتا ہوں۔