(۲۷۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِیُّ وَأَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ یَعْنِیَانِ ابْنَ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیَّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ: أَنَّہُ کَانَ یَرَی عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ یَتَرَبَّعُ فِی الصَّلاَۃِ إِذَا جَلَسَ ، فَفَعَلْتُہُ وَأَنَا یَوْمَئِذٍ حَدِیثُ السِّنِّ ، فَنَہَانِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَقَالَ: إِنَّمَا سُنَّۃُ الصَّلاَۃِ أَنْ تَنْصِبَ رِجْلَکَ الْیُمْنَی وَتَثْنِی الْیُسْرَی۔ فَقُلْتُ: إِنَّکَ تَفْعَلُ ذَلِکَ۔ فَقَالَ: إِنَّ رِجْلِیَّ لاَ تَحْمِلاَنِی۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ عَنْ مَالِکٍ۔
[صحیح۔ اخرجہ مالک فی الموطا ۲۰۲ ومن طریقہ البخاری ۸۲۷]
(٢٧٧٦) عبداللہ بن عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ انھوں عبداللہ بن عمر (رض) کو دیکھا کہ وہ نماز میں جب بیٹھتے تو چار زانو ہو کر (آلتی پالتی مار کر) بیٹھتے۔ میں بھی اسی طرح بیٹھتا۔ ان دنوں میں چھوٹا تھا۔ عبداللہ بن عمر (رض) نے مجھے منع کیا اور فرمایا کہ نماز میں بیٹھنے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ تو اپنا دایاں پاؤں کھڑا کرے اور بائیں کو بچھا کر اس پر بیٹھے ۔ میں نے پوچھا : آپ تو اس طرح (چار زانو) کرتے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا : میرے پاؤں میرا بوجھ نہیں اٹھاسکتے (یعنی میں بیمار ہوں) ۔