(۲۸۳۱) أَمَّا الرِّوَایَۃُ فِیہِ عَنْ عُمَرَ فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِیُّ بِمَکَّۃَ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یُعَلِّمُ النَّاسَ التَّشَہُّدَ فِی الصَّلاَۃِ ، وَہُوَ یَخْطُبُ النَّاسَ عَلَی مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَیَقُولُ: إِذَا تَشَہَّدَ أَحَدُکُمْ فَلْیَقُلْ: بِسْمِ اللَّہِ خَیْرِ الأَسْمَائِ، التَّحِیَّاتُ الزَّاکِیَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ لِلَّہِ، السَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ۔ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: ابْدَئُ وا بِأَنْفُسِکُمْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَسَلِّمُوا عَلَی عِبَادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ۔
وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ عَنْ عُمَرَ وَذَکَرَ فِیہِ التَّسْمِیَۃَ وَزَادَ: وَقَدَّمَ وَأَخَّرَ۔ وَذَلِکَ یَرِدُ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔ [ضعیف]
(٢٨٣١) سیدنا ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی تشہد پڑھے تو اس طرح پڑھے : بِسْمِ اللَّہِ خَیْرِ الأَسْمَائِ ، التَّحِیَّاتُ ۔۔۔ ” اللہ تعالیٰ کے نام ساتھ جو سب سے بہترین نام ہے۔ تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں، اے نبی ! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ “ عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اپنے آپ پر سلام بھیجو، پھر اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام بھیجو۔ “