(۲۸۳۲) وَأَمَّا الرِّوَایَۃُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَتَشَہَّدُ فَیَقُولُ: بِسْمِ اللَّہِ ، التَّحِیَّاتُ لِلَّہِ وَالصَّلَوَاتُ الزَّاکِیَاتُ لِلَّہِ ، السَّلاَمُ عَلَی النَّبِیِّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ ، شَہِدْتُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، شَہِدْتُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ۔ یَقُولُ ہَذَا فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ وَیَدْعُو إِذَا قَضَی تَشَہُّدَہُ بِمَا بَدَا لَہُ ، فَإِذَا جَلَسَ فِی آخِرِ صَلاَتِہِ تَشَہَّدَ کَذَلِکَ أَیْضًا إِلاَّ أَنَّہُ یُقَدِّمُ التَّشَہُّدَ ، ثُمَّ یَدْعُو بِمَا بَدَا لَہُ ، فَإِذَا قَضَی تَشَہُّدَہُ وَأَرَادَ أَنْ یُسَلِّمَ قَالَ: السَّلاَمُ عَلَی النَّبِیِّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عَبَّادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ ، السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ عَلَی یَمِینِہِ ، ثُمَّ یَرُدُّ عَلَی الإِمَامِ ، فَإِنْ سَلَّمَ عَلَیْہِ أَحَدٌ عَنْ یَسَارِہِ رَدَّ عَلَیْہِ۔ [صحیح۔ موقوف علیہ]
(٢٨٣٢) نافع فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) تشہد میں یہ پڑھتے : بسم اللہ التحیات۔۔۔ ” اللہ کے نام کے ساتھ، تمام قولی اور بدنی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر سلامتی ہو اور اللہ کے نیکو کار بندوں پر سلامتی ہو۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ “ یہ وہ پہلی دو رکعتوں میں پڑھتے تھے اور جب تشہد پورا کرتے تو دعا کرتے۔۔۔ پھر جب آپ نماز کی آخری رکعت میں (قعدہ) کے لیے بیٹھتے تو اسی طرح کرتے مگر تشہد کو مقدم کرتے، پھر اللہ کے نام کے ساتھ دعا کرتے۔ جب تشہد مکمل کرلیتے اور سلام پھیرنا چاہتے تو کہتے : السلام علی النبی ورحمۃ۔۔۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں بھی ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو۔ پھر دائیں طرف مڑ کر کہتے : السلام علیکم پھر امام کو سلام کرتے ۔ اگر ان کے بائیں طرف سے کوئی سلام کہتا تو اس کو جواب دیتے۔