(۲۸۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نُعَیْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُجْمِرِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ الأَنْصَارِیَّ - وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ زَیْدٍ ہُوَ الَّذِی کَانَ أُرِیَ النِّدَائَ بِالصَّلاَۃِ - أَخْبَرَہُ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَنَحْنُ فِی مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ فَقَالَ لَہُ بَشِیرُ بْنُ سَعْدٍ: أَمَرَنَا اللَّہُ أَنْ نُصَلِّیَ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ ، فَکَیْفَ نُصَلِّی عَلَیْکَ؟ قَالَ: فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی تَمَنَّیْنَا أَنَّہُ لَمْ یَسْأَلْہُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((قُولُوا: اللَّہُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلَی إِبْرَاہِیمَ ، وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاہِیمَ فِی الْعَالَمِینَ، إِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ وَالسَّلاَمُ کَمَا قَدْ عُلِّمْتُمْ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ یَحْیَی رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: ((کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاہِیمَ)) ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک فی الموطا ۱۲۰]
(٢٨٤٨) (ا) ابومسعود انصاری (رض) سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ (رض) کے ہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو بشیر بن سعد (رض) نے آپ سے عرض کیا کہ اللہ نے ہمیں آپ پر درود پڑھنے کا حکم دیا ہے تو ہم کیسے آپ پر درود پڑھیں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے ہم نے سوچا کہ بشیر بن سعد آپ سے نہ ہی سوال کرتے تو اچھا ہوتا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہو اللہم صل علی ۔۔۔ ” اے اللہ ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر رحمت بھیج اور ان کی آل پر جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر اپنی رحمت نازل فرمائی اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر برکتوں کا نزول فرما اور ان کی آل پر رحمت بھیج جس طرح تو نے تمام جہانوں میں ابراہیم (علیہ السلام) پر برکتیں نازل کی ہیں۔ بیشک تو تعریفوں والا بزرگی والا ہے۔ “ پھر فرمایا : ” اور سلام تو تم جانتے ہو۔ “
(ب) امام مسلم (رح) نے اپنی صحیح میں بھی یہ روایت نقل کی ہے مگر اس میں کما بارکت علی ابراہیم کے الفاظ بھی ہیں۔