(۲۸۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ مِنْ أَصْلِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ بِلاَلٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ أَحْمَدُ بْنُ الأَزْہَرِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ: إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا الإِمَامُ أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ: أَحْمَدُ بْنُ الأَزْہَرِ وَکَتَبْتُہُ مِنْ أَصْلِہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ وَحَدَّثَنِی فِی الصَّلاَۃِ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- إِذَا الْمَرْئُ الْمُسْلِمُ صَلَّی عَلَیْہِ فِی صَلاَتِہِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّہِ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ: عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ حَتَّی جَلَسَ بَیْنَ یَدَیْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَنَحْنُ عِنْدَہُ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَمَّا السَّلاَمُ عَلَیْکَ فَقَدْ عَرَفْنَاہُ، فَکَیْفَ نُصَلِّی عَلَیْکَ إِذَا نَحْنُ صَلَّیْنَا عَلَیْکَ فِی صَلاَتِنَا صَلَّی اللَّہُ عَلَیْکَ۔ قَالَ: فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی أَحْبَبْنَا أَنَّ الرَّجُلَ لَمْ یَسْأَلْہُ ثُمَّ قَالَ: ((إِذَا أَنْتُمْ صَلَّیْتُمْ عَلَیَّ فَقُولُوا: اللَّہُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الأُمِّیِّ ، وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلَی إِبْرَاہِیمَ ، وَعَلَی آلِ إِبْرَاہِیمَ ، وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الأُمِّیِّ ، وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاہِیمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاہِیمَ ، إِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ))۔ لَفْظُہُمَا سَوَاء ٌ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: ہَذَا حَدِیثٌ صَحِیحٌ بِذِکْرِ الصَّلاَۃِ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الصَّلَوَاتِ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
(٢٨٤٩) ابو مسعود عقبہ بن عامر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آکر بیٹھ گیا ، پھر عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! سلام تو ہمیں معلوم ہے لیکن ہم آپ پر اپنی نماز میں درود کیسے بھیجیں ؟ اللہ آپ پر اپنی رحمتیں نازل کرے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے حتیٰ کہ ہم نے چاہا کہ کاش وہ سوال ہی نہ کرتا، پھر آپ نے فرمایا : جب تم (دوران نماز) مجھ پر درود بھیجو تو پڑھو ” اللہم صل علی۔۔۔ اے اللہ ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو کہ نبی امی ہیں رحمت بھیج اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آل پر بھی رحمت نازل فرما، جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور آل ابراہیم پر رحمت نازل کی اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی امی پر برکت نازل فرما اور ان کی آل پر بھی رحمتیں اور برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر اور آلِ ابراہیم پر برکات نازل کیں، بیشک تو تعریفوں کے لائق اور بزرگی والا ہے۔
ابوعبداللہ کہتے ہیں کہ یہ صحیح حدیث نمازوں میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود کے بارے میں ہے۔