(۲۸۵۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ الأَسَدِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِی لَیْلَی یَقُولُ: لَقِیَنِی کَعْبُ بْنُ عُجْرَۃَ فَقَالَ لِی: أَلاَ أُہْدِی لَکَ ہَدِیَّۃً؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- خَرَجَ عَلَیْنَا فَقُلْنَا لَہُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ قَدْ عَلِمْنَا کَیْفَ نُسَلِّمُ عَلَیْکَ ، فَکَیْفَ نُصَلِّی عَلَیْکَ؟ فَقَالَ: ((قُولُوا اللَّہُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ ، وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلَی إِبْرَاہِیمَ ، إِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ ، اللَّہُمَّ بَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاہِیمَ ، إِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ))
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ وَقَالَ: کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاہِیمَ ۔ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ کَذَلِکَ۔
وَقَوْلُہُ فِی الْحَدِیثِ: قَدْ عَلِمْنَا کَیْفَ نُسَلِّمُ إِشَارَۃً إِلَی السَّلاَمِ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فِی التَّشَہُّدِ ، فَقَوْلُہُ: فَکَیْفَ نُصَلِّی عَلَیْکَ أَیْضًا؟ یَکُونُ الْمُرَادُ بِہِ فِی الْقُعُودِ لِلتَّشَہُّدِ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۳۷۰، ۴۷۹۷۔ مسلم ۴۰۶]
(٢٨٥١) (ا) عبدالرحمن بن ابی لیلی فرماتے ہیں کہ کعب بن عجرہ (رض) مجھے ملے اور فرمایا : کیا میں تجھے کوئی تحفہ نہ دوں ؟ پھر فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے ان سے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ہمیں معلوم ہوچکا ہے کہ آپ پر سلام کس طرح بھیجیں پر ہمیں یہ بتا دیجیے کہ آپ پر درو کس طرح پڑھیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہو : ” اللہم صل علی۔۔۔ ” اے اللہ ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آل پر رحمت بھیج جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر رحمت بھیجی، بیشک تو تعریفوں والا اور بزرگی والا ہے۔ اے اللہ ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر برکتیں نازل فرما اور آلِ محمد پر بھی، جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر برکتیں نازل کی۔ بیشک تو قابل تعریف، بزرگی والا ہے۔ “
(ب) بخاری میں کما بارکت علی ابراہیم کے الفاظ بھی ہیں۔
(ج) حدیث کے الفاظ قد علمنا کیف نسلم علیک میں تشہد میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سلام بھیجنے کی طرف اشارہ ہے اور اسی طرح ایک صحابی کے قول فکیف نصل علیک میں بھی تشہد میں درود کے بارے میں سوال تھا۔