(۲۸۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا ابْنُ عَفَّانَ یَعْنِی الْحَسَنَ بْنَ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : اللَّہُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الأَشَجِّ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ، وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عُمَارَۃَ۔
وَرُوِّینَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ: إِنَّمَا یَأْکُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِی ہَذَا الْمَالِ ، لَیْسَ لَہُمْ أَنْ یَزِیدُوا عَلَی الْمَأْکَلِ۔ وَإِنَّمَا أَرَادَ مَنْ فِی نَفَقَتِہِ ،
وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ -ﷺ- مِنْ طَعَامٍ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ حَتَّی قُبِضَ۔
وَرُوِّینَا عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ -ﷺ- مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِینَۃَ مِنْ طَعَامِ بُرٍّ ثَلاَثَ لَیَالٍ تِبَاعًا حَتَّی قُبِضَ۔
وَعَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ: إِنْ کُنَّا آلُ مُحَمَّدٍ -ﷺ- لَنَمْکُثُ شَہْرًا مَا نَسْتَوْقِدُ بِنَارٍ ، إِنَّمَا ہُوَ التَّمْرُ وَالْمَائُ۔
وَأَشَارَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحُلَیْمِیُّ إِلَی أَنَّ اسْمَ أَہْلَ الْبَیْتِ لِلأَزْوَاجِ تَحْقِیقٌ ، وَاسْمَ الآلِ لَہُنَّ تَشْبِیہٌ بِالنَّسَبِ وَخُصُوصًا أَزْوَاجُ النَّبِیِّ لأَنَّ اتِّصَالَہُنَّ بِہِ غَیْرُ مُرْتَفِعٍ ، وَہُنَّ مُحَرَّمَاتٌ عَلَی غَیْرِہِ فِی حَیَاتِہِ وَبَعْدَ وَفَاتِہِ ، فَالسَّبَبُ الَّذِی لَہُنَّ بِہِ قَائِمٌ مَقَامَ النَّسَبِ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَفِی نَصِّ النَّبِیِّ -ﷺ- عَلَی الأَمْرِ بِالصَّلاَۃِ عَلَی أَزْوَاجِہِ یُغْنِیہِ عَنْ غَیْرِہِ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۶۴۶]
(٢٨٦٢) (ا) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! آل محمد کے رزق کو عمدہ خوراک بنا دے۔
(ب) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آل محمد صرف اس مال میں سے کھاتے ہیں۔ ان کے لیے اس کھانے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس سے مراد نفقہ تھا۔
(ج) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی بھی تین دن مسلسل پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا حتیٰ کہ آپ اس دنیا سے چلے گئے۔
(د) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سے مدینہ آئے ، انھوں نے کبھی بھی تین دن گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی حتیٰ کہ آپ اس دار فانی سے کوچ فرما گئے۔
(ہ) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں تھے ۔ مہینوں ہمارے گھروں میں چولہا نہیں جلتا تھا ہمارا کھانا کھجور اور پانی ہوتا تھا۔
(ن) ابوعبداللہ حلیمی نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اہل بیت کا لفظ بیویوں کے لیے ثابت ہے اور آل کا لفظ ان کے لیے بولنا نسبت کے ساتھ تشبیہ کے طور پر ہے اور خصوصاً نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں کے لیے کیونکہ ان کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہونا کوئی بعید نہیں ہے اور وہ (ازواج مطہرات) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات اور آپ کی وفات کے بعد بھی کسی کے لیے حلال نہیں ۔ اس وجہ سے ان کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نسبت قائم ہے۔
امام بیہقی فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنی ازواج پر صلوۃ کے حکم کی صراحت کرنا آپ کے علاوہ سے غنی کردیتا ہے۔