(۲۸۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو وَأَبُو عُثْمَانَ: سَعِیدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَکِیمٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا یَنْبَغِی الصَّلاَۃُ مِنْ أَحَدٍ عَلَی أَحَدٍ إِلاَّ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ-۔
قَالَ الشَّیْخُ: یُرِیدُ بِہِ الصَّلاَۃَ الَّتِی ہِیَ تَحِیَّۃٌ لِذِکْرِہِ عَلَی وَجْہِ التَّعْظِیمِ ، فَأَمَّا صَلاَتُہُ عَلَی غَیْرِہِ فَإِنَّہَا کَانَتْ بِمَعْنَی الدُّعَائِ وَالتَّبْرِیکِ ، وَتِلْکَ جَائِزَۃٌ عَلَی غَیْرِہِ۔ [جید۔ اخرجہ الطبرانی ۱۱۸۱۳]
(٢٨٧٦) (ا) سیدنا ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا کسی کا کسی دوسرے پر درود بھیجنا جائز نہیں ہے۔
(ب) امام بیہقی فرماتے ہیں کہ ابن عباس (رض) درود سے خصوصی درود جو آپ کے نام کے ساتھ پڑھا جاتا ہے مراد لیتے تھے، یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت کی وجہ سے تھا۔ آپ کے علاوہ کسی دوسرے کی صلوۃ دعا اور برکت کے معنیٰ میں ہوگی اور یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ کے لیے جائز ہے۔