hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 2880

.

سنن البيهقي

2880
Sunan Al Bayhaqi
(۲۸۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو شُعَیْبٍ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنِی أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا عُبَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- خَرَجَ ہُوَ وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ ، وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ دَعَاہُمْ ، وَخَرَجُوا مِنْ مَنْزِلِہِ إِلَی الْمَسْجِدِ مَسْجِدِ الْمَدِینَۃِ ، وَعَبْدُ اللَّہِ قَائِمٌ یُصَلِّی وَیَقْرَأُ ، ثُمَّ جَلَسَ فَتَشَہَّدَ ، فَأَثْنَی عَلَی اللَّہِ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ أَحْسَنَ مَا یُثْنِی رَجُلٌ، ثُمَّ صَلَّی عَلَی النَّبِیِّ-ﷺ- ثُمَّ ابْتَہَلَ فِی الدُّعَائِ، وَالنَّبِیُّ -ﷺ- قَائِمٌ یَسْتَمِعُ فَجَعَلَ یَقُولُ: ((سَلْ تُعْطَہْ))۔ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: مَنْ ہَذَا یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ: ((ہَذَا عَبْدُ اللَّہِ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ ، مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا کَمَا أُنْزِلَ فَلْیَقْرَأْہُ کَمَا قَرَأَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ))، فَابْتَدَرَہُ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا ، فَسَبَقَہُ أَبُو بَکْرٍ ، فَزَعَمَ عُمَرُ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ سَبَقَہُ ، قَالَ عُمَرُ: وَکَانَ سَبَّاقًا بِالْخَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ أَجْمَعِینَ۔ [ضعیف]
(٢٨٨٠) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر و عمر (رض) تینوں نکلے۔ ابوبکر (رض) نے آپ کی دعوت کی تھی۔ وہ آپ کے گھر سے مدینہ کی مسجد نبوی کی طرف نکلے، عبداللہ (رض) کھڑے نماز میں قرات کر رہے تھے، پھر وہ بیٹھے انھوں نے تشہد پڑھی۔ پھر اللہ کی خوب حمدوثنا کی، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجا، پھر انھوں نے خوب گڑ گڑا کر دعا کی، حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے غور سے سن رہے تھے ۔ آپ کہنے لگے : ” مانگ، تو جو مانگے گا تجھے دیا جائے گا۔ ابوبکر (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ عبداللہ بن ام عبد (رض) ہیں۔ جس کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ وہ قرآن کو آہستہ آہستہ پڑھے جس طرح نازل ہوا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اس طرح پڑھے جس طرح ابن ام عبد (رض) پڑھ رہے تھے۔
ابوبکر صدیق اور عمر (رض) جلدی جلدی چلے تو ابوبکر عمر (رض) سے سبقت لے گئے۔ عمر (رض) نے یقین کرلیا کہ ابوبکر (رض) ان سے سبقت لے گئے ہیں تو عمر (رض) نے کہا : وہ تو ہر نیکی میں سبقت لے جانے والے ہیں۔