(۲۸۸۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَکَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- أَخْبَرَتْہُ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ یَدْعُو فِی الصَّلاَۃِ: ((اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیحِ الدَّجَّالِ ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ))۔ قَالَتْ فَقَالَ لَہُ قَائِلٌ: مَا أَکْثَرَ مَا تَسْتَعِیذُ مِنَ الْمَغْرَمِ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَکَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۸۳۳]
(٢٨٨١) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں یہ دعا کیا کرتے تھے : اللہم انی عوذبک۔۔۔ ” اے اللہ میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں مسیح دجال کے بہکانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور گناہ اور قرض کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! کیا وجہ ہے کہ آپ قرض سے بہت زیادہ پناہ مانگتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آدمی جب قرض دار ہوتا ہے تو جھوٹ کا سہارا لیتا ہے اور وعدہ خلافی بھی کرتا ہے۔