(۲۸۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنِ ابْنِ أُکَیْمَۃَ اللَّیْثِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- انْصَرَفَ مِنْ صَلاَۃٍ جَہَرَ فِیہَا بِالْقِرَائَ ۃِ فَقَالَ: ((ہَلْ قَرَأَ مَعِی أَحَدٌ مِنْکُمْ آنِفًا ۔ فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ: إِنِّی أَقُولُ مَا لِی أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟))۔ قَالَ: فَانْتَہَی النَّاسُ عَنِ الْقِرَائَ ۃِ مع رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِیمَا جَہَرَ فِیہِ النَّبِیُّ -ﷺ- بِالْقِرَائَ ۃِ مِنَ الصَّلَوَاتِ حِینَ سَمِعُوا ذَلِکَ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَی حَدِیثَ ابْنِ أُکَیْمَۃَ ہَذَا مَعْمَرٌ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ وَأُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ عَلَی مَعْنَی مَالِکٍ۔
[صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۳۷۷۶]
(٢٨٩٢) سیدنا ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جہری نماز سے سلام پھیرا اور فرمایا : ابھی نماز میں میرے ساتھ ساتھ کس نے قراءت کی ہے ؟ ایک آدمی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں پڑھ رہا تھا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسی لیے میں سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ قرآن پڑھنا مجھ پر مشکل ہو رہا ہے۔ تب سے لوگ جہری نمازوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ قراءت کرنے سے رک گئے۔
ابوداؤد فرماتے ہیں کہ ابن اکیمہ کی اس حدیث کو معمر، یونس اور اسامہ بن زید نے زہری سے مالک کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے۔