hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 2893

.

سنن البيهقي

2893
Sunan Al Bayhaqi
(۲۸۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی خَلَفٍ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ الزُّہْرِیِّ وَابْنِ السَّرْحِ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ حَفِظْتُہُ مِنْ فِیہِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أُکَیْمَۃَ یُحَدِّثُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ: صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃً نَظُنُّ أَنَّہَا الصُّبْحُ ، فَلَمَّا قَضَاہَا قَالَ: ((ہَلْ قَرَأَ مِنْکُمْ أَحَدٌ؟))۔ فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنِّی أَقُولُ مَا لِی أُنَازَعُ الْقُرْآنَ))۔ قَالَ عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ قَالَ سُفْیَانُ ثُمَّ قَالَ الزُّہْرِیُّ شَیْئًا لَمْ أَحْفَظْہُ انْتَہَی حِفْظِی إِلَی ہَذَا۔ وَقَالَ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ: فَانْتَہَی النَّاسُ عَنِ الْقِرَائَ ۃِ فِیمَا جَہَرَ فِیہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔ قَالَ عَلِیٌّ قَالَ لِی سُفْیَانُ یَوْمًا: فَنَظَرْتُ فِی شَیْئٍ عِنْدِی فَإِذَا ہُوَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃَ الصُّبْحِ بِلاَ شَکٍّ۔ وَقَالَ مُسَدَّدٌ فِی حَدِیثِہِ قَالَ مَعْمَرٌ: فَانْتَہَی النَّاسُ عَنِ الْقِرَائَ ۃِ فِیمَا جَہَرَ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔ وَقَالَ ابْنُ السَّرْحِ فِی حَدِیثِہِ قَالَ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: فَانْتَہَی النَّاسُ۔ وَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّہْرِیُّ قَالَ سُفْیَانُ: وَتَکَلَّمَ الزُّہْرِیُّ بِکَلِمَۃٍ لَمْ أَسْمَعْہَا۔ فَقَالَ مَعْمَرٌ إِنَّہُ قَالَ: فَانْتَہَی النَّاسُ۔ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَانْتَہَی حَدِیثُہُ إِلَی قَوْلِہِ: مَا لِی أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟۔ وَرَوَاہُ الأَوْزَاعِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ فِیہِ قَالَ الزُّہْرِیُّ: فَاتَّعَظَ الْمُسْلِمُونَ بِذَلِکَ ، فَلَمْ یَکُونُوا یَقْرَئُ ونَ مَعَہُ فِیمَا یَجْہَرُ بِہِ۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ یَحْیَی بْنِ فَارِسٍ یَقُولُ: قَوْلُہُ: فَانْتَہَی النَّاسُ۔ مِنْ کَلاَمِ الزُّہْرِیِّ۔ قَالَ الشَّیْخُ: وَکَذَا قَالَہُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیُّ فِی التَّارِیخِ قَالَ: ہَذَا الْکَلاَمُ مِنْ قَوْلِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ فَارِسٍ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ فَذَکَرَہُ وَقَالَ فِی ابْنِ أُکَیْمَۃَ ہُوَ عُمَارَۃُ بْنُ أُکَیْمَۃَ اللَّیْثِیُّ وَیُقَالُ عَمَّارُ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَالَّذِی یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ مِنْ قَوْلِ الزُّہْرِیِّ مَا۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
(٢٨٩٣) (ا) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایک نماز پڑھائی، ہمارا خیال ہے کہ وہ صبح کی نماز تھی۔ جب آپ نے نماز مکمل کی تو گویا ہوئے : کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قراءت کی ہے ؟ ایک آدمی نے کہا : جی ہاں اللہ کے رسول ! تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسی لیے میں سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ قرآن مجھ پر مشکل ہو رہا ہے۔
(ب) معمر، زہری سے نقل فرماتے ہیں کہ لوگ (ان نمازوں میں) قراءت سے رک گئے جن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جہراً قرات کرتے تھے۔
(ج) علی کہتے ہیں کہ ایک دن مجھے سفیان نے کہا : میں نے اپنے پاس موجود (روایات) میں دیکھا تو اچانک یہ الفاظ تھے : بلا شک ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز ہی پڑھائی تھی۔
(د) مسدد اپنی حدیث میں فرماتے ہیں کہ معمر نے کہا : لوگ ان (نمازوں میں) قرات سے رک گئے جن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جہراً قرات کرتے تھے۔
(ہ) ابن سرح نے اپنی حدیث میں کہا : معمر نے بواسطہ زہری، ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا ہے کہ لوگ قراءت سے رک گئے۔
(و) عبداللہ بن محمد زہری نے بیان کیا کہ سفیان نے کہا : زہری نے ایک کلمہ کہا جسے میں نے بھی نہیں سنا۔ معمر نے کہا : انھوں نے نے کہا تھا : فانتہی الناس (لوگ رک گئے) ۔
(ز) ابوداؤد فرماتے ہیں : اس حدیث کو عبدالرحمن بن اسحق نے زہری سے روایت کیا ہے اور اس کی حدیث ” مالی انازع القرآن ؟ “ پر ختم ہوتی ہے اور اوزاعی نے زہری سے روایت نقل کی۔ اس میں زہری کا قول ہے کہ ” پھر مسلمانوں نے اس سے نصیحت حاصل کی اور وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ان نمازوں میں قراءت نہیں کرتے تھے جن میں آپ جہراً قراءت کرتے تھے۔
(ح) ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے محمد بن یحییٰ بن فارس سے سنا کہ ” فانتہی الناس “ زہری کے کلام سے ہے۔
(ط) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : اسی طرح محمد بن اسماعیل بخاری (رح) نے ” التاریخ “ میں اس کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کلام زہری کا ہے۔