(۲۹۰۷) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ہُوَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمَعْنَی حَدِیثِ أَبِی الْوَلِیدِ وَفِی آخِرِہِ قَالَ شُعْبَۃُ فَقُلْتُ لِقَتَادَۃَ: کَأَنَّہُ کَرِہَہُ ؟ فَقَالَ: لَوْ کَرِہَہُ لَنَہَی عَنْہُ۔
وَرُوِّینَا عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ أَنَّہُ قَالَ: لاَ تَجُوزُ صَلاَۃٌ إِلاَّ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ ، وَکَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- إِنْ کَرِہَ مِنَ الْقَارِئِ خَلْفَہُ شَیْئًا کَرِہَ الْجَہْرَ بِالْقِرَائَ ۃِ دُونَ الْقِرَائَ ۃِ نَفْسِہَا۔ وَہُوَ مِثْلُ مَا۔
[صحیح۔ وقد تقدم فی ۲۹۰۵، ۲۹۰۶]
(٢٩٠٧) (ا) شعبہ کہتے ہیں : میں نے قتادہ سے کہا : شاید کہ آپ نے امام کے پیچھے قراءت کو اچھا نہیں سمجھا ہوگا ؟ تو انھوں نے فرمایا : اگر اس کو اچھا نہ سمجھتے تو ضرور منع فرما دیتے۔
(ب) عمران بن حصین (رض) کے واسطہ سے ہمیں روایت بیان کی گئی ہے کہ انھوں نے فرمایا : سورة فاتحہ کے بغیر نماز جائز نہیں ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے پیچھے پڑھنے والے کو اچھا نہیں سمجھا تو اس کے اونچا پڑھنے کو ناپسند کیا ہے نہ کہ دل میں پڑھنے کو (یعنی اس کے پڑھنے کو آپ نے اس لیے اچھا نہیں سمجھا کہ وہ اونچی آواز سے پڑھ رہا تھا جس کی وجہ سے آپ کی قراءت میں خلل واقع ہو رہا تھا) ۔