(۲۹۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ وَعَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ قَالاَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ أَبِی الزَّاہِرِیَّۃِ عَنْ کَثِیرِ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ قَالَ: قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَفِی کُلِّ صَلاَۃٍ قُرْآنٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ))۔ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَجَبَ ہَذَا۔ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ : یَا کَثِیرُ وَأَنَا إِلَی جَنْبِہِ لاَ أَرَی الإِمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ إِلاَّ قَدْ کَفَاہُمْ۔
قَالَ عَلِیٌّ: الصَّوَابُ أَنَّہُ مِنْ قَوْلِ أَبِی الدَّرْدَائِ کَمَا قَالَ ابْنُ وَہْبٍ ، وَہِمَ فِیہِ زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رَوَی زَیْدٌ کَمَا رَوَاہُ ابْنُ وَہْبٍ وَرَوَاہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ - وَہُوَ إِمَامٌ حَافِظٌ - عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ فَجَعَلَہُ مِنْ قَوْلِ أَبِی الدَّرْدَائِ ۔
وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ : أَنَّہُ کَانَ یَرَی الْقِرَائَ ۃَ خَلْفَ الإِمَامِ ، وَزِیدُ بْنُ ثَابِتٍ کَانَ لاَ یَرَاہَا مَعَ الإِمَامِ۔
[صحیح۔ وقد تقدم الکلام علیہ فی الذی قبلہ]
(٢٩١٠) (ا) سیدنا ابودرداء (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا ہر نماز میں قرات ضروری ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا : قرات واجب ہوگئی۔ آپ نے فرمایا : اے کثیر ! (یہ راوی کا نام ہے) میرا خیال یہ ہے کہ امام کی قرات مقتدیوں کے لیے کافی ہے۔
(ب) علی کہتے ہیں کہ درست بات یہ ہے کہ یہ ابودرداء (رض) کا اپنا قول ہے جیسا کہ ابن وہب نے کہا ہے کہ راوی زید بن حباب کو وہم ہوا ہے۔ ہمیں ابودرداء (رض) کے واسطہ سے روایت بیان کی گئی ہے کہ وہ امام کے پیچھے قرات کے قائل تھے اور زید بن ثابت (رض) امام کے پیچھے قرات کے قائل نہ تھے۔