(۲۹۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَہْبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِیعِ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃَ الْغَدَاۃِ فَثَقُلَتْ عَلَیْہِ الْقِرَائَ ۃُ ، فَلَّمَا انْصَرَفَ قَالَ: ((إِنِّی أَرَاکُمْ تَقْرَئُ ونَ وَرَائَ إِمَامِکُمْ))۔ قَالَ قُلْنَا: أَجَلْ وَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ ، إِنَّا لَنَفْعَلُ ہَذَا۔ قَالَ: ((فَلاَ تَفْعَلُوا إِلاَّ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ، فَإِنَّہُ لاَ صَلاَۃَ لِمَنْ لَمْ یَقْرَأْ بِہَا))۔ لَفْظُ حَدِیثِ التَّنُوخِیِّ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ وَیَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ وَجَمَاعَۃٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ۔
وَرَوَاہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ وَذَکَرَ فِیہِ سَمَاعَ ابْنِ إِسْحَاقَ مِنْ مَکْحُولٍ۔
[صحیح۔ دون ولہ (لا صلوۃ الابأم القرآن) (فانہا من قول عبادہ) اخرجہ احمدہ ۳۱۶]
(٢٩١٥) حضرت عبادہ بن صامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز پڑھائی تو آپ پر قرات مشکل ہوگئی ۔ جب آپ نے نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا : میرا خیال ہے کہ تم اپنے امام کے پیچھے قراءت کرتے ہو ؟ ہم نے کہا : جی ہاں اے اللہ کے رسول ! ہم تو ایسا ہی کرتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سورة فاتحہ کے سوا کچھ نہ پڑھا کرو کیونکہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو اسے نہیں پڑھتا۔