(۳۰۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ قَالَ: صَلَّی لَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃَ الصُّبْحِ بِالْحُدَیْبِیَۃِ فِی إِثْرِ سَمَائٍ کَانَتْ مِنَ اللَّیْلِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ بِوَجْہِہِ فَقَالَ: ((ہَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ؟))۔قَالُوا: اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ۔قَالَ: ((قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِی مُؤْمِنٌ بِی وَکَافِرٌ ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّہِ وَرَحْمَتِہِ فَذَلِکَ مُؤْمِنٌ بِی وَکَافِرٌ بِالْکَوْکَبِ ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْئِ کَذَا وَکَذَا فَذَلِکَ کَافِرٌ بِی وَمُؤْمِنٌ بِالْکَوْکَبِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۸۴۶]
(٣٠٣٠) زید بن خالد جہنی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیبیہ کے مقام پر ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اور رات کو بارش بھی ہوئی تھی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف منہ کیا اور فرمایا : کیا تم جانتے ہو تمہارا رب کیا فرماتا ہے ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی خوب جانتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آج صبح میرے بعض بندے مومن ہوئے اور بعض کافر۔ جس نے کہا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی تو وہ مجھ پر ایمان لانے والا ہے اور ستاروں کا منکر اور جس نے کہا کہ فلاں ستارے کے فلاں جگہ پر آنے کی وجہ سے بارش ہوئی تو وہ میرا منکر ہے اور ستاروں پر ایمان لانے والا۔