(۳۰۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ: عَبْدُوسُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنِی حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ أَتَّخَذَ النَّبِیُّ -ﷺ- خَاتَمًا؟ فَقَالَ: نَعَمْ أَخَّرَ لَیْلَۃً صَلاَۃَ الْعِشَائِ الآخِرَۃِ إِلَی قَرِیبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّیْلِ ، فَلَمَّا صَلَّی أَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ فَقَالَ: ((إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا ، وَلَمْ تَزَالُوا فِی صَلاَۃٍ مَا انْتَظَرْتُمُوہَا))۔قَالَ أَنَسٌ: فَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی وَبِیصِ خَاتَمِہِ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ عَنْ حُمَیْدٍ کَمَا مَضَی ذِکْرُہُ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۷۲۔۶۶۱]
(٣٠٣١) حمید طویل فرماتے ہیں کہ حضرت انس (رض) سے کس نے پوچھا کہ کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انگوٹھی رکھی تھی ؟ تو انھوں نے فرمایا : جی ہاں ! ایک رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز آدھی رات کے قریب تک موخر کردی۔ پھر جب آپ نے نماز پڑھائی تو نماز کے بعد ہماری طرف منہ کیا اور فرمایا کہ لوگ تو نماز پڑھ کر سو چکے ہیں لیکن تم جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے نماز ہی میں رہے۔ انس (رض) فرماتے ہیں : گویا میں اب بھی آپ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔