(۳۰۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: کَانُوا یَسْتَحِبُّونَ لِلرَّجُلِ إِذَا صَلَّی الصُّبْحَ أَنْ لاَ یَطْعَمَ طَعَامًا حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَیُصَلِّی لِلَّہِ عَزَّ وَجَلَّ رَکْعَتَیْنِ۔
وَرُوِّینَا عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّہُ قَالَ: أَدْرَکْتُ النَّاسَ وَمَا یَتَکَلَّمُونَ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔
وَإِنَّمَا أَرَادَ فِیمَا لاَ یَعْنِیہُمْ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔
وَأَمَّا بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ۔ [صحیح]
(٣٠٣٢) (ا) حسن بصری (رح) بیان کرتے ہیں کہ اس بات کو لوگ مستحب خیال کرتے تھے کہ آدمی جب صبح کی نماز پڑھے تو سورج طلوع ہونے تک کچھ نہ کھائے اور اللہ کے لیے دو رکعت ادا کرے۔
(ب) مالک بن انس (رح) کے واسطے سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ صبح کی نماز کے بعد باتیں بھی نہیں کرتے تھے حتیٰ کہ سورج طلوع ہوجائے۔