(۳۰۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْحُرْفِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ الزُّبَیْرِیُّ حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ زَیْدٍ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ حَنْطَبٍ قَالَ: تَمَارَوْا فِی الْقِرَائَ ۃِ فِی الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ ، فَأَتَوْا خَارِجَۃَ بْنَ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَقَالَ قَالَ لِی أَبِی: قَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَصَلَّی بِنَا الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ یُحَرِّکُ شَفَتَیْہِ ، وَلاَ أَعْلَمُ ذَلِکَ إِلاَّ بِقِرَائَ ۃٍ فَنَحْنُ نَفْعَلُہُ۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ احمد ۱۸۲/ ۲۱۹۱۳]
(٣٠٦٢) مطلب بن عبداللہ بن حنطب سے روایت ہے کہ لوگوں نے ظہر اور عصر کی قراءت میں اختلاف کیا، پھر وہ خارجہ بن زید بن ثابت کے پاس آئے تو انھوں نے فرمایا : مجھے میرے والد نے بتایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ظہر اور عصر کی نماز پڑھائی تو قیام کے دوران آپ کے ہونٹ مبارک حرکت کر رہے تھے۔ میں یہی سمجھتا ہوں کہ وہ قراءت کی وجہ سے ہل رہے تھے ۔ بس ہم بھی اس طرح کرتے ہیں۔