hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 3068

.

سنن البيهقي

3068
Sunan Al Bayhaqi
(۳۰۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی الْجِنِّ وَلاَ رَآہُمْ ، انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی طَائِفَۃٍ مِنْ أَصْحَابِہِ عَامِدِینَ إِلَی سُوقِ عُکَاظٍ ، وَقَدْ حِیلَ بَیْنَ الشَّیَاطِینِ وَبَیْنَ خَبَرِ السَّمَائِ ، وَأُرْسِلَتْ عَلَیْہِمُ الشُّہُبُ ، فَرَجَعَتِ الشَّیَاطِینُ إِلَی قَوْمِہِمْ ، فَقَالُوا: مَا لَکُمْ؟ قَالُوا: حِیلَ بَیْنَنَا وَبَیْنَ خَبَرِ السَّمَائِ ، وَأُرْسِلَتْ عَلَیْنَا الشُّہُبُ۔قَالُوا: مَا حَالَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ خَبَرِ السَّمَائِ إِلاَّ شَیْئٌ حَدَثَ ، فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَہَا ، وَانْظُرُوا مَا ہَذَا الَّذِی حَالَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ خَبَرِ السَّمَائِ ۔فَانْصَرَفَ أُولَئِکَ الَّذِینَ تَوَجَّہُوا نَحْوَ تِہَامَۃَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ بِنَخْلَۃَ عَامِدِینَ إِلَی سُوقِ عُکَاظٍ ، وَہْوَ یُصَلِّی بِأَصْحَابِہِ صَلاَۃَ الْفَجْرِ ، فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ اسْتَمَعُوا لَہُ وَقَالُوا: وَاللَّہِ ہَذَا الَّذِی حَالَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ خَبَرِ السَّمَائِ ۔فَہُنَالِکَ حِینَ رَجَعُوا إِلَی قَوْمِہِمْ قَالُوا: یَا قَوْمَنَا {إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا یَہْدِی إِلَی الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِہِ وَلَنْ نُشْرِکَ بِرَبِّنَا أَحَدًا} فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَی نَبِیِّہِ -ﷺ- {قُلْ أُوحِیَ إِلَیَّ} وَإِنَّمَا أُوحِیَ إِلَیْہِ قَوْلُ الْجِنِّ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ شَیْبَانَ بْنِ فَرُّوخٍ عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۷۳]
(٣٠٦٨) ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنوں پر نہ قرآن پڑھا اور نہ ہی آپ نے انھیں دیکھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ کی جماعت کے ساتھ بازارِ عکاظ کی طرف جا رہے تھے۔ ان دنوں شیطانوں کو آسمانوں کی خبریں لینے سے روک دیا گیا تھا اور ان پر انگاروں کی مار ہونے لگی تھی۔ شیاطین اپنی قوم کی طرف لوٹ کر آئے تو انھوں نے پوچھا : کیا خبر ہے ؟ وہ کہنے لگے : آسمانوں کی خبریں ہم سے روک دی گئی ہیں اور ہم پر انگارے برسائے گئے۔ وہ کہنے لگے : یہ جو آسمانوں کی خبریں تم سے روک دی گئی ہیں اس کی وجہ کوئی نئی بات معلوم ہوتی ہے، ذرا زمین کے مشرق ومغرب میں گھوم پھر کر دیکھو کہ کون سی نئی بات ہوئی ؟ جس کی وجہ سے آسمان کی خبریں تم سے روک دی گئیں۔ یہ سن کر وہ چاروں طرف پھیل گئے۔ ان میں سے جو جنات تہامہ کی طرف نکلے تھے۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آپہنچے۔ اس وقت آپ وادی ” نخلہ “ میں تھے اور عکاظ کی منڈی کو جانے کا ارادہ تھا ۔ آپ صحابہ کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ جب ان جنوں نے قرآن سنا تو کان لگا لیے اور کہنے لگے : اللہ کی قسم ! یہی وہ چیز ہے جو ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان حائل ہوگئی ہے۔ جب وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ کر گئے تو کہنے لگے : {إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا یَہْدِی إِلَی الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِہِ وَلَنْ نُشْرِکَ بِرَبِّنَا أَحَدًا } (الجن) ” بھائیو ! ہم ایک عجیب قرآن سن کر آئے ہیں وہ سیدھا راستہ بتاتا ہے، ہم تو اس پر ایمان لائے اور ہرگز اپنے مالک کا کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔ “ تب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر سورة جن نازل فرمائی اور لفظ ” أُوحِیَ إِلَیّ “ جن کا قول ہے۔