(۳۰۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ قَالَ: کُنَّا عِنْدَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکُنَّا نَتَذَاکَرُ الْعِلْمَ ، فَقَالَ رَجُلٌ: لاَ تَتَحَدَّثُوا إِلاَّ بِمَا فِی الْقُرْآنِ۔ فَقَالَ لَہُ عِمْرَانُ: إِنَّکَ لأَحْمَقُ أَوَجَدْتَ فِی الْقُرْآنِ صَلُّوا الظُّہْرَ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ ، وَالْعَصْرَ أَرْبَعًا لاَ تَجْہَرْ بِالْقِرَائَ ۃِ فِی شَیْئٍ مِنْہَا ، وَالْمَغْرِبَ ثَلاَثًا تَجْہَرُ بِالْقِرَائَ ۃِ فِی الرَّکْعَتَیْنِ مِنْہَا ، وَلاَ تَجْہَرْ بِالْقِرَائَ ۃِ فِی رَکْعَۃٍ ، وَالْعِشَائَ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ تَجْہَرُ بِالْقِرَائَ ۃِ فِی رَکْعَتَیْنِ مِنْہَا ، وَلاَ تَجْہَرْ بِالْقِرَائَ ۃِ فِی رَکْعَتَیْنِ ، وَالْفَجْرَ رَکْعَتَیْنِ تَجْہَرُ فِیہِمَا بِالْقِرَائَ ۃِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ عبدالرزاق ۲۰۴۷۴]
(٣٠٦٩) ابو نضرۃ سے روایت ہے کہ ہم عمران بن حصین (رض) کے پاس علمی مذاکرہ کر رہے تھے۔ ایک شخص بولا کہ قرآن کے علاوہ کوئی بات نہ کرو۔ عمران (رض) نے ان سے کہا : تو واقعی بیوقوف اور احمق ہے، کیا تجھے قرآن سے یہ بات ملی ہے کہ ظہر کی چار رکعتیں پڑھو، عصر کی بھی چار پڑھو اور ان میں قراءت اونچی نہ کرو اور مغرب کی تین رکعتیں پڑھو، دو میں جہری قراءت اور ایک میں سری قراءت کرو اور عشا کی چار رکعتیں ادا کرو، دو میں اونچی اور دو میں آہستہ قراءت کرو اور فجر کی دو رکعتیں پڑھو اور دونوں رکعتوں میں اونچی قراءت کرو ؟