(۳۰۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَمِّہِ أَبِی سُہَیْلٍ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَجْہَرُ بِالْقِرَائَ ۃِ فِی الصَّلاَۃِ ، وَأَنَّ قِرَائَ تَہُ کَانَتْ تُسْمَعُ عِنْدَ دَارِ أَبِی جَہْمٍ بِالْبَلاَطِ۔
قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ ہُوَ الْبُوشَنْجِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: الْبَلاَطُ مَوْضِعٌ بِالْمَدِینَۃِ قَرِیبٌ مِنَ السُّوقِ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَلَمْ یَکُنْ فِی الْوَقْتِ الَّذِی جَہْرَ فِیہِ عُمَرُ ہَذَا الْجَہْرُ مَا کَانَ فِی وَقْتِ نُزُولِ الآیَۃِ مِنْ خَوْفِ الْمُشْرِکِینَ أَنْ یَنَالُوا مِنْہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک فی الموطا ۱۸۰]
(٣٠٧٢) (ا) ابو سہیل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب (رض) نماز میں جہری قراءت کیا کرتے تھے اور ان کی قراءت کی آواز ” بلاط “ میں ابو جہم کے گھر کے پاس سنی جاسکتی تھی۔
(ب) ابو عبداللہ بوشنجی بیان کرتے ہیں کہ بلاط مدینہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے جو بازار کے قریب ہے۔
(ج) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) اس وقت جہری قراءت کرتے تھے جب مشرکین کی طرف سے دخل اندازی کا خوف تھا۔