(۳۱۴۰) فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّارُ بِبَغْدَادَ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِہِ بَخَطِّ أَبِی الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِیِّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاکِہِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَکَرِیَّا بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِی مَسَرَّۃَ أَخْبَرَنِی أَبِی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِیدِ یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنَ أَبِی رَوَّادٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ہُرْمُزَ أَنَّ بُرَیْدَ بْنَ أَبِی مَرْیَمَ أَخْبَرَہُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَمُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ ہُوَ ابْنُ الْحَنَفِیَّۃِ بِالْخَیْفِ یَقُولاَنِ: کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَقْنُتُ فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ ، وَفِی وِتْرِ اللَّیْلِ بِہَؤُلاَئِ الْکَلِمَاتِ: ((اللَّہُمَّ اہْدِنِی فِیمَنْ ہَدَیْتَ ، وَعَافِنِی فِیمَنْ عَافَیْتَ ، وَتَوَلَّنِی فِیمَا تَوَلَّیْتَ ، وَبَارِکْ لِی فِیمَا أَعْطَیْتَ ، وَقِنِی شَرَّ مَا قَضَیْتَ ، إِنَّکَ تَقْضِی وَلاَ یُقْضَی عَلَیْکَ ، إِنَّہُ لاَ یَذِلُّ مَنْ وَالَیْتَ ، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ))۔ [ضعیف۔ اخرجہ الفاکھی ۱/ ۱۸/۱۔۲]
(٣١٤٠) برید بن ابی مریم بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) اور محمد بن علی بن حنفیہ سے سنا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کی نماز میں اور رات کے وتروں میں یہ کلمات پڑھتے تھے۔ ” اللہم اہدنی فیمن ہدیت۔۔۔“ ” اے اللہ ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت سے نوازا ہے اور مجھے عافیت بخش کر ان میں شامل فرما جنہیں تو نے عافیت بخشی ہے اور جن کو تو نے اپنا دوست بنایا ہے۔ ان میں مجھے بھی شامل فرما کر اپنا دوست بنا لے اور تو نے مجھے جو کچھ بھی عطا کیا ہے۔ اس میں میرے لیے برکت ڈال دے اور جس شر کا تو نے فیصلہ کردیا ہے اس سے مجھے محفوظ و مامون فرما۔ یقیناً فیصلہ تو ہی کرتا ہے تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جاسکتا اور جس کا تو والی بنے وہ کبھی ذلیل ہو نہیں سکتا۔ اے ہمارے رب ! تو ہی برکتوں والا اور بلند وبالا ہے۔ “