(۳۱۵۵) وَقَدْ رَوَی أَبُو حَمْزَۃَ الأَعْوَرُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- شَہْرًا یَدْعُو عَلَی عُصَیَّۃَ وَذَکْوَانَ، فَلَمَّا ظَہَرَ عَلَیْہِمْ تَرَکَ الْقُنُوتَ۔أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ أَبِی حَمْزَۃَ فَذَکَرَہُ۔
وَقَدْ رُوِّینَا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَہْدِیٍّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَنَّہُ قَالَ: إِنَّمَا تَرَکَ اللَّعْنَ۔
[ضعیف۔ اخرجہ الطحاوی ۱/ ۲۴۵]
(٣١٥٥) (ا) حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ماہ تک قنوت پڑھی، جس میں عصیہ اور ذکوان پر بددعا کرتے رہے۔ پھر جب آپ پر معاملہ ظاہر ہوگیا (یعنی وحی آگئی) تو آپ نے قنوت ترک کردی۔
(ب) عبدالرحمن بن مہدی (رح) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف بددعا کرنا ترک کی تھی۔