(۳۱۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ قَالَ قُلْتُ لأَبِی: یَا أَبَتِ أَلَیْسَ قَدْ صَلَّیْتَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَخَلْفَ أَبِی بَکْرٍ وَخَلْفَ عُمَرَ؟ قَالَ: بَلَی۔قُلْتُ: فَکَانُوا یَقْنُتُونَ فِی الْفَجْرِ؟ قَالَ: یَا بُنَیَّ مُحْدَثَۃٌ۔
طَارِقُ بْنُ أَشْیَمَ الأَشْجَعِیُّ لَمْ یَحْفَظْہُ عَمَّنْ صَلَّی خَلْفَہُ فَرَآہُ مُحْدَثًا وَقَدْ حَفِظَہُ غَیْرُہُ فَالْحُکْمُ لَہُ دُونَہُ۔
[صحیح۔ اخرجہ ابن ماجہ ص ۱۲۴۱]
(٣١٥٦) (ا) ابومالک اشجعی سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد محترم سے عرض کیا : ابا جان ! کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر اور عمر (رض) کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں ؟ انھوں نے فرمایا : کیوں نہیں ! میں نے کہا : کیا وہ فجر کی نماز میں قنوت پڑھتے تھے ؟ انھوں نے فرمایا : میرے بیٹے ! یہ تو بدعت ہے۔
(ب) طارق بن اشیم اشجعی نے اس سے روایت یاد ہی نہیں کی جس کے پیچھے انھوں نے نماز پڑھی۔ اس لیے وہ اس کو بدعت سمجھتے تھے حالانکہ یہ روایت ان کے علاوہ حضرات نے یاد کی ہے۔ لہٰذا اس کا حکم ان کے مخالف ہوگا۔