(۳۱۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ یَقُولُ: أَرَأَیْتَ قِیَامَہُمْ عِنْدَ فَرَاغِ الْقَارِئِ مِنَ السُّورَۃِ ہَذَا الْقُنُوتُ إِنَّہَا لَبِدْعَۃٌ ، مَا فَعَلَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلاَّ شَہْرًا ثُمَّ تَرَکَہُ۔(ج) بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ النَّدَبِیُّ ضَعِیفٌ۔
فَإِنْ صَحَّتْ رِوَایَتُہُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فَفِیہَا دِلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّہُ إِنَّمَا أَنْکَرَ الْقُنُوتَ قَبْلَ الرُّکُوعِ۔
(٣١٥٨) (ا) بشر بن حرب بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) سے سنا کہ کیا تو ان کے قیام کو دیکھ رہا ہے کہ قاری کے سورت سے فارغ ہونے کے بعد یہ قنوت یقیناً بدعت ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تو صرف ایک ماہ تک قنوت کی تھی ۔ پھر اس کو چھوڑ دیا تھا۔
(ب) اگر بشر بن حرب کی ابن عمر (رض) سے نقل کردہ روایت صحیح ہو تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انھوں نے رکوع سے پہلے قنوت کا انکار کیا ہے مطلق قنوت کا انکار نہیں کیا۔
[ضعیف راوی، بشر بن حرب الندبی ضعیف ہے۔]