(۳۱۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ صَلاَۃَ الصُّبْحِ فَلَمْ یَقْنُتْ ، فَقُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ: لاَ أَرَاکَ تَقْنُتُ۔قَالَ: لاَ أَحْفَظْہُ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِنَا۔
قَالَ الشَّیْخُ: نِسْیَانُ بَعْضِ الصَّحَابَۃِ أَوْ غَفْلَتُہُ عَنْ بَعْضِ السُّنَنِ لاَ یَقْدَحُ فِی رِوَایَۃِ مَنْ حَفِظَہُ وَأَثْبَتَہُ۔
[صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۴۹۵۴]
(٣١٥٧) (ا) ابومجلز سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر (رض) کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی، انھوں نے قنوت نہیں پڑھی۔ میں نے ابن عمر (رض) سے عرض کیا کہ میں نے آپ کو قنوت پڑھتے نہیں دیکھا ؟ انھوں نے فرمایا : اپنے اصحاب میں سے میں نے کسی سے بھی یہ حدیث نہیں سنی۔
(ب) امام بیہقی (رح) بیان کرتے ہیں : بعض صحابہ کا بھول جانے اور ان سے بعض سنتوں سے تساہل ہوجانے سے ان صحابہ (رض) کی روایت پر قدح (مذمت، تنکیر) لازم نہیں آتا جنہوں نے اس کو یاد کیا ہوا اور اسے ثابت رکھا ہو۔