(۳۱۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْہَیْثَمِ الْبَلَدِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ یَعْنِی مُحَمَّدَ بْنَ مُطَرِّفٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ہُوَ ابْنُ مُطَرِّفٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ الصُّنَابِحِیِّ قَالَ: زَعَمَ أَبُو مُحَمَّدٍ أَنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ۔
فَقَالَ عُبَادَۃُ: کَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، أَشْہَدُ أَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَہُنَّ اللَّہُ ، مَنْ أَحْسَنَ وُضُوئَ ہُنَّ وَصَلاَتَہُنَّ لِوَقْتِہِنَّ ، وَأَتَمَّ رُکُوعَہُنَّ وَخُشُوعَہُنَّ ، کَانَ لَہُ عِنْدَ اللَّہِ عَہْدٌ أَنْ یَغْفِرَ لَہُ ، وَمَنْ لَمْ یَفْعَلْ فَلَیْسَ لَہُ عِنْدَ اللَّہِ عَہْدٌ ، إِنْ شَائَ غَفَرَ لَہُ ، وَإِنْ شَائَ عَذَّبَہُ))۔
لَیْسَ فِی حَدِیثِ آدَمَ ذِکْرُ الْوِتْرِ ، وَقَالَ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ الصُّنَابِحِیِّ۔ [صحیح۔ وقد تقدم برقم ۱۶۹۲]
(٣١٦٦) (ا) حضرت عطاء بن یسار عبداللہ صنابحی فرماتے ہیں کہ ابو محمد کا خیال یہ ہے کہ وتر واجب ہیں۔
عبادہ بن صامت (رض) نے فرمایا : ابو محمد کو غلط فہمی ہوئی ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : ” اللہ رب العزت نے پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جس شخص نے اچھی طرح وضو کیا، انھیں وقت پر ادا کیا، ان کے رکوع اطمینان سے کیے اور خشوع و خضوع کا خیال رکھا تو ایسے شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اسے معاف فرمائے گا اور جو شخص ایسا نہ کرے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کا کوئی وعدہ نہیں، اگر چاہے تو معاف کر دے اور اگر چاہے تو عذاب دے۔