(۳۱۶۵) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْحَسَنِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَلَّوَیْہِ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ: ہِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ الْوَلِیدُ بْنُ الْعَیْزَارِ أَخْبَرَنِی قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّیْبَانِیَّ یَقُولُ أَخْبَرَنِی صَاحِبُ ہَذِہِ الدَّارِ وَأَوْمَأَ بِیَدِہِ إِلَی دَارِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- أَیُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَی اللَّہِ؟ قَالَ: ((الصَّلاَۃُ لِوَقْتِہَا))۔قُلْتُ: ثُمَّ أَیُّ؟ قَالَ: ((بِرُّ الْوَالِدَیْنِ))۔قُلْتُ: ثُمَّ أَیُّ؟ قَالَ: ((الْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ))۔قَالَ: وَحَدَّثَنِی بِہِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُہُ لَزَادَنِی۔
ہَکَذَا أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۰۴]
(٣١٦٥) ولید بن عیزار بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو عمرو شیبانی سے سنا کہ مجھے اس گھر والے نے بیان کیا، انھوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) کے گھر کی طرف اشارہ کیا کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : کون سا کام اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے ؟ آپ نے فرمایا : نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا۔ میں نے پوچھا : پھر کون سا کام ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا۔ میں نے پوچھا : پھر کون سا ؟ فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ تین باتیں بیان کیں۔ اگر میں اور پوچھتا تو آپ اور زیادہ بیان کرتے۔