hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 3172

.

سنن البيهقي

3172
Sunan Al Bayhaqi
(۳۱۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنِی ثَابِتٌ الْبُنَانِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی مَسِیرِہِمْ قَالَ: فَمَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- عَنِ الطَّرِیقِ فَوَضَعَ رَأْسَہُ ، ثُمَّ قَالَ: ((احْفَظُوا عَلَیْنَا صَلاَتَنَا))۔فَکَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَیْقَظَ النَّبِیُّ -ﷺ- وَالشَّمْسُ فِی ظَہْرِہِ ، فَقُمْنَا فَزِعِینَ فَقَالَ: ارْکَبُوا۔ فَسِرْنَا حَتَّی ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ دَعَا بِمِیضَأَۃٍ کَانَتْ مَعِی ، فِیہَا شَیْئٌ مِنْ مَائٍ ، فَتَوَضَّأَنَا مِنْہَا ، وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ: ثُمَّ نَادَی بِلاَلٌ بِالصَّلاَۃِ ، فَصَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ صَلَّی صَلاَۃَ الْغَدَاۃِ ، فَصَنَعَ کَمَا کَانَ یَصْنَعُ کُلَّ یَوْمٍ ، ثُمَّ رَکِبَ النَّبِیُّ -ﷺ- وَرَکِبْنَا ، فَجَعَلَ بَعْضُنَا یَہْمِسُ إِلَی بَعْضٍ مَا کَفَّارَۃُ مَا صَنَعْنَا بِتَفْرِیطِنَا فِی صَلاَتِنَا؟ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((مَا ہَذَا الَّذِی تَہْمِسُونَ دُونِی؟))۔فَقُلْنَا: یَا نَبِیَّ اللَّہِ تَفْرِیطُنَا فِی صَلاَتِنَا؟ فَقَالَ: ((أَمَا لَکُمْ فِیَّ أُسْوَۃٌ؟))۔ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّہُ لَیْسَ فِی النَّوْمِ تَفْرِیطٌ ، إِنَّمَا التَّفْرِیطُ عَلَی مَنْ لَمْ یُصَلِّ الصَّلاَۃَ حَتَّی یَجِیئَ وَقْتُ الأُخْرَی ، فَإِذَا کَانَ ذَلِکَ فَلْیُصَلِّہَا حِینَ یَسْتَیْقِظُ ، فَإِذَا کَانَ مِنَ الْغَدِ فَلْیُصَلِّہَا عِنْدَ وَقْتِہَا))۔وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ ، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَبَاحٍ: إِنِّی لأُحَدِّثُ بِہَذَا الْحَدِیثِ فِی الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ فَقَالَ لِی عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَیْنِ: انْظُرْ أَیُّہَا الْفَتَی کَیْفَ تُحَدِّثُ ، فَإِنِّی لأَحَدُ الرَّکْبِ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ۔قُلْتْ: یَا أَبَا نُجَیْدٍ حَدِّثْ أَنْتَ أَعْلَمُ بِالْحَدِیثِ۔قَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنَ الأَنْصَارِ۔قَالَ: فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِالْحَدِیثِ۔فَحَدَّثْتُ الْقَوْمَ فَقَالَ عِمْرَانُ: لَقَدْ شَہِدْتُ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ فَمَا شَعَرْتُ أَنَّ أَحَدًا حَفِظَہُ کَمَا حَفِظْتُہُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ شَیْبَانَ بْنِ فَرُّوخٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ وَقَالَ: فَمَنْ فَعَلَ ذَلِکَ فَلْیُصَلِّہَا حِینَ یَنْتَبِہُ لَہَا ، فَإِذَا کَانَ الْغَدُ فَلْیُصَلِّہَا عِنْدَ وَقْتِہَا۔ وَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ لِیُبَیْنَ أَنَّ وَقْتَہَا لَمْ یَتَحَوَّلْ إِلَی مَا بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، فَإِذَا کَانَ الْغَدُ صَلاَّہَا عِنْدَ وَقْتِہَا یَعْنِی صَلاَۃَ الْغَدِ، وَقَدْ حَمَلَہُ بَعْضُہُمْ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ رَبَاحٍ عَلَی الْوَہَمِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۶۸۱]
(٣١٧٢) (ا) عبداللہ بن رباح ابوقتادہ (رض) سے صحابہ کے سفر والی مکمل حدیث ذکر کی۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) راستے سے تھوڑا ہٹ گئے، پھر اپنا سر مبارک رکھا (یعنی آرام کے لیے لیٹ گئے) ، پھر فرمایا : ہماری نماز کا خیال رکھنا۔ سب سے پہلے اٹھنے والے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے اور سورج بھی نکل چکا تھا۔ ہم بھی گھبرا کر بیدار ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چلو سواریوں پر سوار ہو کر نکلو۔ ہم چل پڑے حتیٰ کہ سورج اچھی طرح روشن ہوگیا، پھر آپ نے وضو کا برتن منگوایا جو میرے پاس تھا۔ اس میں کچھ پانی تھا پھر ہم سب نے اس سے وضو کیا۔۔۔ انھوں نے مکمل حدیث ذکر کرتے ہوئے فرمایا : پھر مؤذن رسول حضرت بلال (رض) نے اذان کہی، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعت نماز (فجر کی سنتیں) ادا کیں۔ پھر صبح کی نماز پڑھائی۔ آپ نے اسی طرح کیا جس طرح ہر روز کیا کرتے تھے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ہم سب اپنی اپنی سواریوں پر سوار ہوگئے۔ ہم میں سے بعض صحابہ (رض) ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے کہ ہم نے جو نماز میں کوتاہی کی ہے اس کا کفارہ کیا ہوگا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں دیکھ کر پوچھا : تم کیا سرگوشیاں کر رہے ہو ؟ ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! نماز میں ہماری کوتاہی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تمہارے لیے میری زندگی میں اسوہ حسنہ نہیں ہے ؟ پھر فرمایا : نیند کی وجہ سے نماز نہ پڑھنے سے کوتاہی نہیں ہوتی۔ کوتاہی تو اس شخص سے ہوتی ہے جو بیداری اور یادداشت میں نماز نہ پڑھے حتیٰ کہ دوسری نماز کا وقت آجائے۔ جب کسی کے ساتھ اس طرح کا معاملہ پیش آئے تو اسے چاہیے کہ جب اٹھے تو اسی وقت پڑھ لے اور آئندہ وقت پر نماز ادا کرے ۔۔۔
پھر عبداللہ بن رباح بیان کرتے ہیں کہ میں ضرور اس حدیث کو جامع مسجد میں بیان کروں گا تو عمران بن حصین (رض) کے مجھے کہا : ارے نوجوان بھائی ! دیکھ تو سہی تو کیسے بیان کرے گا ؟ حالانکہ میں بھی اس رات کے قافلے کا ایک فرد تھا۔ میں نے عرض کیا : اے ابونجید ! آپ بیان کیجیے آپ اس حدیث کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ انھوں نے فرمایا : تمہارا تعلق کس سے ہے ؟ میں نے عرض کیا : انصار سے۔ انھوں نے فرمایا : تم حدیث کے بارے میں زیادہ علم رکھتے ہو، میں نے لوگوں کے سامنے حدیث بیان کی تو عمران (رض) نے فرمایا : یقیناً میں اس رات موجود تھا لیکن میرا خیال نہیں کہ کسی ایک نے بھی اس طرح اس حدیث کو یاد رکھا ہو جس طرح آپ نے یاد کر رکھی ہے۔
(ب) امام مسلم فرماتے ہیں : جو اس طرح کرے ، پھر جب اسے پتا چل جائے تو وہ نماز ادا کرلے لیکن آئندہ نماز کو اس کے وقت پر ادا کرے۔
(ج) شاید ان کی مراد یہ تھی کہ نمازِ فجر کا وقت سورج نکلنے تک نہیں رہتا۔ لہٰذا جب اگلا دن ہو تو نماز کو وقت پر ادا کرلے۔