(۳۱۷۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَیْبَانَ عَنْ خَالِدِ بْنِ شُمَیْرٍ قَالَ: قَدِمَ عَلَیْنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَبَاحٍ الأَنْصَارِیُّ وَکَانَتِ الأَنْصَارُ تُفَقِّہُہُ فَحَدَّثَنَا قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیُّ فَارِسُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ قِصَّۃَ نَوْمِہِمْ عَنِ الصَّلاَۃِ إِلَی أَنْ قَالَ: فَمَا اسْتَیْقَظْنَا إِلاَّ بِالشَّمْسِ طَالِعَۃً عَلَیْنَا ، فَقُمْنَا وَہِلِینَ لِصَلاَتِنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((رُوَیْدًا رُوَیْدًا))۔حَتَّی تَعَالَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ قَالَ: ((مَنْ کَانَ یُصَلِّی ہَاتَیْنِ الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ صَلاَۃِ الْغَدَاۃِ فَلْیُصَلِّہِمَا))۔قَالَ: فَصَلاَّہُمَا مَنْ کَانَ یُصَلِّیہِمَا وَمِنَ کَانَ لاَ یُصَلِّیہِمَا ، ثُمَّ أَمَرَ فَنُودِیَ بِالصَّلاَۃِ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَصَلَّی بِنَا ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّا بِحَمْدِ اللَّہِ لَمْ نَکُنْ فِی شَیْئٍ مِنْ أَمْرِ الدُّنْیَا شَغَلَنَا عَنْ صَلاَتِنَا ، وَلَکِنْ أَرْوَاحُنَا کَانَتْ بِیَدِ اللَّہِ أَرْسَلَہَا إِذَا شَائَ ، فَمَنْ أَدْرَکَتْہُ ہَذِہِ الصَّلاَۃُ مِنْ غَدٍ صَالِحًا فَلْیُصَلِّ مَعَہَا مِثْلَہَا))۔
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیُّ: لاَ یُتَابَعُ فِی قَوْلِہِ: مَنْ نَسِیَ صَلاَۃً فَلْیُصَلِّہَا إِذَا ذَکَرَہَا وَلِوَقِتَہَا مِنَ الْغَدِ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُوبَکْرٍ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ قَالَ قَالَ مُحَمَّدٌ فَذَکَرَہُ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَالَّذِی یَدُلُّ عَلَی ضَعْفِ ہَذِہِ الْکَلِمَۃِ وَأَنَّ الصَّحِیحَ مَا مَضَی مِنْ رِوَایَۃِ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ أَحَدَ الرَّکْبِ کَمَا حَدَّثَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَبَاحٍ عَنْہُ وَقَدْ صَرَّحَ فِی رِوَایَۃِ ہَذَا الْحَدِیثَ بِأَنْ لاَ یَجِبُ مَعَ الْقَضَائِ غَیْرُہُ۔ [شاذ۔ اخرجہ ابوداود ۴۳۸]
(٣١٧٣) (ا) خالد بن سمیر روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن رباح انصاری (رض) ہمارے پاس تشریف لائے، انصار انھیں فقیہ کہا کرتے تھے۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھڑ سوار ابو قتادہ نے ہمیں حدیث بیان کی۔۔۔
پھر انھوں نے نیند کی وجہ سے نماز رہ جانے والی مکمل حدیث ذکر کی اور فرمایا کہ جب سورج طلوع ہو کر کافی بلند ہوگیا تو ہم بیدار ہوئے، ہم نماز کے لیے جلدی کرنے لگے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ٹھہرو ! تاکہ سورج اچھی طرح طلوع ہوجائے۔ پھر جب سورج کافی بلند ہوگیا تو فرمایا : جو شخص فجر کی دو رکعتیں (سنتیں) پڑھتا ہے وہ پڑھ لے تو تمام لوگ کھڑے ہوگئے اور دو رکعتیں ادا کیں۔ پھر رسول اللہ نے اذان کے لیے حکم دیا اور نماز کے لیے اذان کہی گئی۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگے بڑھے اور ہمیں نماز پڑھائی۔ پھر جب نماز سے سلام پھیر کر فارغ ہوئے تو فرمایا : تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں (اللہ کا شکر ہے) کہ ہمیں کسی دنیوی کام کی مشغولیت نے نماز سے غافل نہیں کیا، ہماری روحیں تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں تھیں، اس ذات نے جب چاہا ان (روحوں) کو آزاد کردیا اور فرمایا : جو شخص کل فجر کی نماز کو وقت پر پالے تو اس جیسی ایک نماز اور پڑھ لے۔
(ب) امام محمد بن اسماعیل بخاری فرماتے ہیں کہ ان کے اس قول کا متابع موجود نہیں ہے کہ جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آئے نماز پڑھ لے اور آئندہ وقت پر ادا کرے۔
(ج) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : وہ چیز جو اس کلمہ کے ضعف پر دلالت کرتی ہے اور صحیح بھی وہی ہے۔ یہ سلیمان بن مغیرہ کی حدیث میں گزر چکی ہے کہ عمران بن حصین (رض) اسی قافلے کے ایک مسافر تھے جیسا کہ عبداللہ بن رباح نے بھی ان سے بیان کیا ہے اور انھوں نے اس حدیث کے بارے میں تصریح فرما دی کہ قضا کے علاوہ کچھ بھی واجب نہ ہوگا۔