(۳۱۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی کَثِیرٍ حَدَّثَنَا مَکِّیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: سَرَیْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی غَزَاۃٍ أَوْ قَالَ سَرِیَّۃٍ فَلَمَّا کَانَ فِی آخِرِ السَّحَرِ عَرَّسْنَا ، فَمَا اسْتَیْقَظْنَا حَتَّی أَیْقَظَنَا حَرُّ الشَّمْسِ ، فَجَعَلَ الْقَوْمُ مِنَّا یَنْتَبِہُ فَزِعًا دَہِشًا ، فَلَمَّا اسْتَیْقَظَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَمَرَنَا فَارْتَحَلْنَا ، ثُمَّ سِرْنَا حَتَّی ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ نَزَلْنَا فَقَضَی الْقَوْمُ حَوَائِجَہُمْ ، ثُمَّ أَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ ، فَصَلَّیْنَا رَکْعَتَیْنِ ثُمَث أَمَرَہُ فَأَقَامَ ، ثُمَّ صَلَّی الْغَدَاۃَ فَقُلْنَا یَا نَبِیَّ اللَّہِ أَلاَ نَقْضِیہَا مِنَ الْغَدِ لِوَقْتِہَا فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَنْہَاکُمُ اللَّہُ عَنِ الرِّبَا وَیَقْبَلُہُ مِنْکُمْ))۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ عَنْ ہِشَامٍ۔ [ضعیف۔ اخرجہ احمد ۴/ ۴۴۱]
(٣١٧٤) عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ ایک غزوہ میں تھے یا سریہ کا لفظ بولا۔ جب رات کا آخری وقت ہوا تو ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈال دیا۔ پھر سورج کے بلند ہونے کی وجہ سے ہماری آنکھ کھلی تو ہم گھبرا گئے، پھر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوئے تو ہمیں حکم دیا کہ یہاں سے آگے چلیں۔ پھر ہم چلے حتیٰ کہ سورج کافی بلند ہوگیا۔ پھر ہم ایک دوسری جگہ اترے۔ لوگ اپنی اپنی حاجتوں سے فارغ ہوئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال کو اذان کہنے کا حکم دیا۔ انھوں نے اذان کہی تو ہم نے فجر کی دو سنتیں ادا کیں ۔ پھر آپ نے بلال کو حکم دیا۔ انھوں نے اقامت کہی اور آپ نے فجر کی نماز پڑھائی۔ ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! آپ پر سلامتی ہو کیا ہم کل بھی اس کو اس کے وقت سے قضا کر کے ادا کریں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں سود سے منع کرتا ہے اور وہی تمہارے اعمال قبول کرتا ہے۔