(۳۱۸۲) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ وَالْمَسْعُودِیُّ عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی عَلْقَمَۃَ الْقَارِیِّ مِنْ بَنِی قَارَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَحَدِیثُ الْمَسْعُودِیِّ أَحْسَنُ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مَرْجِعَہُ مِنَ الْحُدَیْبِیَۃِ فَعَرَّسْنَا ، فَقَالَ: ((مَنْ یَحْرُسُنَا لِصَلاَتِنَا؟))۔وَقَالَ شُعْبَۃُ: ((مَنْ یَکْلَؤُنَا))۔فَقَالَ بِلاَلٌ: أَنَا۔قَالَ الْمَسْعُودِیُّ فِی حَدِیثِہِ: إِنَّکَ تَنَامُ۔ ثُمَّ قَالَ: ((مَنْ یَحْرُسُنَا لِصَلاَتِنَا؟))۔فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ قُلْتُ: أَنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ۔فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّکَ تَنَامَ))۔ فَحَرَسْتُہُمْ حَتَّی إِذَا کَانَ فِی وَجْہِ الصُّبْحِ أَدْرَکَنِی مَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَنِمْتُ ، فَمَا اسْتَیْقَظْنَا إِلاَّ بِالشَّمْسِ ، قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَصَنَعَ مَا کَانَ یَصْنَعُ ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ اللَّہَ لَوْ أَرَادَ أَنْ لاَ تَنَامُوا عَنْہَا لَمْ تَنَامُوا ، وَلَکِنْ أَرَادَ أَنْ یَکُونَ لِمَنْ بَعْدَکُمْ فَہَکَذَا فَافْعَلُوا مَنْ نَامَ مِنْکُمْ أَوْ نَسِیَ)) ۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۱/ ۳۹۱]
(٣١٨٢) سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حدیبیہ سے واپس آرہے تھے تو ہم نے رات کو جنگل میں پڑاؤ ڈالا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمیں نماز کے لیے کون جگائے گا ؟ شعبہ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ہم پر پہرہ کون دے گا ؟ بلال (رض) نے کہا : میں۔ مسعودی اپنی حدیث میں کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : تم سو جاؤ گے ۔ پھر فرمایا : ہمیں نماز کے لیے کون اٹھائے گا ؟ ابن مسعود (رض) کہتے ہیں : میں نے کہا : میں اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم سو جاؤ گے تو میں نے ان پر پہرہ دیا حتیٰ کہ جب صبح قریب تھی میرے ساتھ وہی ہوا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا (کہ تم سو جاؤ گے) تو میں سو گیا۔ دھوپ کی وجہ سے ہم بیدار ہوئے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور حسب معمول کام کیا پھر فرمایا : اگر اللہ چاہتا کہ تم نہ سوؤ تو تم کبھی نہ سوتے لیکن اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے بعد والوں کے لیے مسئلہ واضح ہوجائے، لہٰذا تم میں سے کوئی سو جائے یا بھول جائے تو تم اس طرح کرو۔