(۳۱۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْبُرُلُّسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو ثَابِتٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ أَبِی الْعَطَّافِ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ: ((مَنْ نَسِیَ صَلاَۃً فَوَقْتُہَا إِذَا ذَکَرَہَا))۔
کَذَا رَوَاہُ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِی الْعَطَّافِ ، وَقَدْ قِیلَ عَنْہُ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَکِیمٍ أَوْ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔(ج) وَہُوَ مُنْکَرُ الْحَدِیثِ۔
قَالَ الْبُخَارِیُّ وَغَیْرُہُ وَالصَّحِیحُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَغَیْرِہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مَا ذَکْرَنَا لَیْسَ فِیہِ فَوَقْتُہَا إِذَا ذَکَرَہَا۔
وَفِی حَدِیثِ أَبِی قَتَادَۃَ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ وَغَیْرِہِمَا دِلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ وَقْتَ الْقَضَائِ لاَ یَتَضَیَّقُ ، وَلَوْ کَانَ یَتَضَیَّقُ لأَشْبَہَ أَنْ لاَ یُؤَخِّرَہَا عَنْ حَالِ الاِنْتِبَاہِ لِمَکَانِ الشَّیْطَانِ فَقَدْ صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ یَخْنُقُ الشَّیْطَانَ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَخَنْقُہُ الشَّیْطَانَ فِی الصَّلاَۃِ أَکْبَرُ مِنْ وَادٍ فِیہِ شَیْطَانٌ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۴۹، مسلم ۵۴۱]
(٣١٨٣) (ا) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو آدمی نماز پڑھنا بھول جائے تو جب اسے یاد آجائے وہی اس کا وقت ہے لہٰذا اسی وقت پڑھ لے۔۔۔
(ب) امام بخاری (رح) فرماتے ہیں : حضرت ابوہریرہ (رض) کی نقل کردہ روایت ہے۔ اس میں ” فوقتہا اذا ذکرہا “ کے الفاظ نہیں ہیں۔
(ج) ابوقتادہ اور ابوہریرہ (رض) کی حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ قضا کا وقت کم نہیں ہوتا اور اگر تنگ ہو تو زیادہ مناسبت یہ ہے کہ اس کو خبردار کرنے کی حالت سے مؤخر نہ کرے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی تھی، جس کی وجہ سے شیطان کا دم گھٹ رہا تھا۔
(د) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : نماز میں شیطان کا دم گھوٹنا اس سے وادی بڑا ہے جس میں شیطان ہو۔