(۳۱۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: جَائَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- یَوْمَ الْخَنْدَقِ ، فَجَعَلَ یَسُبُّ کُفَّارَ قُرَیْشٍ وَیَقُولُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا صَلَّیْتُ صَلاَۃَ الْعَصْرِ حَتَّی کَادَتْ أَنْ تَغِیبَ الشَّمْسُ ، قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((وَأَنَا وَاللَّہِ مَا صَلَّیْتُہَا بَعْدُ))۔قَالَ: فَنَزَلَ إِلَی بُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّی الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَابَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ بَعْدَہَا۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۷۳]
(٣١٨٦) جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ خندق کے روز حضرت عمر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کافروں کو برا کہنے لگے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں نے سورج ڈوبنے کے قریب عصر کی نماز پڑھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تو غروب آفتاب تک بھی نہ پڑھ سکا۔ جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں : پھر ہم بطحان نامی جگہ میں اترے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو فرمایا اور غروب آفتاب کے بعد نمازِ عصر پڑھی۔ پھر اس کے بعد مغرب کی نماز ادا کی۔