(۳۱۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: جُنَاحُ بْنُ نَذِیرِ بْنِ جُنَاحٍ الْمُحَارِبِیُّ بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَرَّ عَلَیَّ الشَّیْطَانُ فَتَنَاوَلْتُہُ فَأَخَذْتُہُ فَخَنَقْتُہُ حَتَّی وَجَدْتُ بَرْدَ لِسَانِہِ عَلَی یَدَی ، وَقَالَ أَوْجَعْتَنِی أَوْجَعْتَنِی ، وَلَوْلاَ مَا دَعَا سُلَیْمَانُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ لأَصْبَحَ مُنَاطًا إِلَی أُسْطُوَانَۃٍ مِنْ أَسْاطِینِ الْمَسْجِدِ ، یَنْظُرُ إِلَیْہِ وِلْدَانُ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ))۔
تَابَعَہُ جَابِرُ بْنُ سَمُرَۃَ فَرَوَاہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِمَعْنَاہُ۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ احمد ۱/ ۴۱۳]
(٣١٨٥) عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس ایک بار شیطان آیا، میں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کا گلا گھونٹا حتیٰ کہ مجھے اس کی زبان کی سردی اپنے ہاتھ پر محسوس ہوگئی ۔ وہ کہنے لگا : آپ نے مجھے تکلیف دی ہے اگر سلیمان (علیہ السلام) نے دعا نہ کی ہوتی کہ رب اغفرلی وہب لی ملکا لا ینبغی لاحد۔۔۔ تو ضرور یہ صبح کو مسجد کے کسی ستون کے ساتھ بندھا ہوا ہوتا اور اہل مدینہ کے بچے اس کو دیکھتے۔