(۳۱۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ: إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو عُثْمَانَ التَّنُوخِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنِی الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مُوَازِی الْعَدُوِ فَشَغَلُوا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ صَلاَۃِ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ حَتَّی کَانَ نِصْفُ اللَّیْلِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَبَدَأَ بِالظُّہْرِ فَصَلاَّہَا ، ثُمَّ الْعَصْرِ ، ثُمَّ الْمَغْرِبِ ، ثُمَّ الْعِشَائِ یُتْبَعُ بَعْضَہَا بَعْضًا۔
زَادَ فِیہِ الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِی عَمْرٍو الأَوْزَاعِیِّ یُتَابَعُ بَعْضُہَا بَعْضًا بِإِقَامَۃٍ إِقَامَۃٍ وَقَدْ مَضَی ذِکْرُہُ۔
وَرُوِّینَاہُ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی مَسْأَلَۃِ الأَذَانِ۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الترمذی ۱۷۹]
(٣١٨٨) (ا) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ کے ہمراہ دشمن کے خلاف صف آرا تھے۔ دشمن نے رسول اللہ کو نماز ظہر، عصر، مغرب اور عشا سے مشغول کیے رکھا حتیٰ کہ آدھی رات کا وقت ہوگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے، ظہر سے ابتدا کی پھر عصر، مغرب اور عشاء ترتیب سے ساری نمازیں ادا کیں۔
(ب) ولید بن مسلم نے بواسطہ ابو عمر واوزاعی یہ اضافہ کیا ہے کہ اس روایت کے بعض راوی دوسروں کی موافقت کرتے ہیں، یعنی ایک ایک اقامت کے ساتھ۔ اس کا ذکر گزر چکا ہے۔
(ج) ہمیں یہ حدیث ابو سعید خدری (رض) کے واسطے سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اذان کے بارے میں بیان کی گئی۔