(۳۱۸۹) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرَائُ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی الضُّحَی عَنْ شُتَیْرِ بْنِ شَکَلٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ: شُغِلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ الأَحْزَابِ عَنْ صَلاَۃِ الْعَصْرِ حَتَّی صَلَّی مَا بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ فَقَالَ: شَغَلُونَا عَنِ الصَّلاَۃِ الْوُسْطَی صَلاَۃِ الْعَصْرِ مَلأَ اللَّہُ قُبُورَہُمْ وَبُیُوتَہُمْ نَارًا۔
[صحیح۔ تقدم برقم ۲۱۶۰]
(٣١٨٩) سیدنا علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ خندق والے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لڑائی میں مصروفیت کی وجہ سے عصر کی نماز رہ گئی۔ آپ نے عصر کی نماز مغرب اور عشا کے درمیان نماز ادا کی اور فرمایا : ہمیں نمازِ وسطی سے مشغول رکھا گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔