(۳۲۰۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعْدٍ الصُّوفِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّرْخَسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْبَلْخِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُطِیعٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ فَذَکَرَہُ۔
قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: أَبُو مُطِیعٍ بَیِّنُ الضَّعْفِ فِی أَحَادِیثِہِ وَعَامَّۃُ مَا یَرْوِیہِ لاَ یُتَابَعُ عَلَیْہِ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَقَدْ ضَعَّفَہُ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ وَغَیْرُہُ ، وَکَذَلِکَ عَطَائُ بْنُ عَجْلاَنَ ضَعِیفٌ۔ وَرُوِیَ فِیہِ حَدِیثٌ مُنْقَطِعٌ وَہُوَ أَحْسَنُ مِنَ الْمَوْصُولِینَ قَبْلَہُ۔ [باطل۔ تقدم فی الذی قبلہ]
(٣٢٠٠) ایک دوسری سند سے اسی جیسی حدیث منقول ہے۔ اس میں ابو مطیع راوی ضعیف ہے۔
(ب) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں کہ ابو مطیع کو یحییٰ بن معین وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔