hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 3222

.

سنن البيهقي

3222
Sunan Al Bayhaqi
(۳۲۲۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْحُرْفِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَیْرِ الْکُوفِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ قَالَ حَدَّثَنِی ثُمَامَۃُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ جَدِّہِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کُنَّ إِمَائُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَخْدُمْنَنَا کَاشِفَاتٍ عَنْ شُعُورِہِنَّ تَضْرِبُ ثُدِیَّہُنَّ۔ قَالَ الشَّیْخُ: وَالآثَارُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی ذَلِکَ صَحِیحَۃٌ وَإِنَّہَا تَدُلُّ عَلَی أَنَّ رَأْسَہَا وَرَقَبَتَہَا وَمَا یَظْہَرُ مِنْہَا فِی حَالِ الْمِہْنَۃِ لَیْسَ بِعَوْرَۃٍ۔ فَأَمَّا حَدِیثُ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ فَقَدِ اخْتُلِفَ فِی مَتْنِہِ فَلاَ یَنْبَغِی أَنْ یُعْتَمَدَ عَلَیْہِ فِی عَوْرَۃِ الأَمَۃِ ، وَإِنْ کَانَ یَصْلُحُ الاِسْتِدْلاَلُ بِہِ وَبِسَائِرِ مَا یَأْتِی عَلَیْہِ مَعَہُ فِی عَوْرَۃِ الرَّجُلِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ وَقَدِ احْتَجَّ بَعْضُ أَصْحَابُنَا فِی ذَلِکَ بِحَدِیثٍ رَوَاہُ بِإِسْنَادِہِ۔ [جید۔ قد ذکر الالبانی فی الارواء ۶/۲۰۴]
(٣٢٢٢) (ا) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ سیدنا عمر (رض) کی لونڈیاں ہماری خدمت کیا کرتی تھیں ۔ ان کے بال کھلے ہوتے اور سینے پر کپڑا ڈالے ہوئے ہوتیں۔
(ب) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : عمر بن خطاب (رض) سے اس مسئلہ کے بارے جو آثار منقول ہیں وہ صحیح ہیں اور اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ لونڈی کا سر، گردن اور کام کاج کے دوران جو ظاہر ہو ستر نہیں ہے۔
(ج) رہی عمرو بن شعیب کی روایت تو اس کا متن مختلف فیہ ہے، لہٰذا کسی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ لونڈی کے ستر میں اس پر اعتماد کیا جائے اور اگر اس جیسی روایات سے استدلال کرنا صحیح ہو تو یہ مرد کے ستر کی طرح ہوجائے گا۔ وباللہ التوفیق