(۳۲۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ یَعْنِی ابْنَ کَثِیرٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ صَفِیَّۃَ بِنْتَ أَبِی عُبَیْدٍ حَدَّثَتْہُ قَالَتْ: خَرَجَتِ امْرَأَۃٌ مُخْتَمِرَۃٌ مُتَجَلْبِبَۃٌ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: مَنْ ہَذِہِ الْمَرْأَۃُ؟ فَقِیلَ لَہُ: ہَذِہِ جَارِیَۃٌ لِفُلاَنٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِیہِ ، فَأَرْسَلَ إِلَی حَفْصَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقَالَ: مَا حَمَلَکِ عَلَی أَنْ تُخَمِّرِی ہَذِہِ الأَمَۃَ وَتُجَلْبِبِیہَا وَتُشَبِّہِیہَا بِالْمُحْصَنَاتِ حَتَّی ہَمَمْتُ أَنْ أَقَعَ بِہَا لاَ أَحْسَبُہَا إِلاَّ مِنَ الْمُحْصَنَاتِ ، لاَ تُشَبِّہُوا الإِمَائَ بِالْمُحْصَنَاتِ۔
[صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق کما فی نصب الرایہ ۱/۲۴۱]
(٣٢٢١) نافع بیان کرتے ہیں کہ صفیہ بنت ابی عبید فرماتی ہیں کہ ایک عورت بڑی چادر میں لپٹی ہوئی نکلی تو سیدنا عمر (رض) نے پوچھا : یہ کون عورت ہے ؟ تو کسی نے بتایا کہ فلاں آدمی کی لونڈی ہے۔ وہ اس کے قبیلے کا آدمی ہے تو انھوں نے سیدہ حفصہ (رض) کو پیغام بھیجا : تجھے کس نے کہا کہ تو اس لونڈی کو چادر پہنا، اس کو مکمل پردہ کروا اور آزاد عورتوں کے مشابہ کر دے ؟ میں ارادہ کرچکا تھا کہ میں اس کو پکڑ کر سزا دوں ۔ لہٰذا لونڈیوں کو آزاد عورتوں کے مشابہ نہ بناؤ۔