(۳۲۳۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ فَذَکَرَہُ۔
وَفِی قَوْلِہِ: انْحَسَرَ أَوِ انْکَشَفَ دَلِیلٌ عَلَی أَنَّ ذَلِکَ لَمْ یَکُنْ بِقَصْدِہِ -ﷺ- وَقَدْ تَنْکَشِفُ عَوْرَۃُ الإِنْسَانِ بِرِیحٍ أَوْ سَقَطَۃٍ أَوْ غَیْرِہِمَا ، فَلاَ یَکُونُ مَنْسُوبًا إِلَی الْکَشْفِ
وَقَوْلِہِ فِی الرِّوَایَۃِ الأُولَی: ثُمَّ حَسَرَ الإِزَارَ عَنْ فَخِذِہِ۔ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ أَرَادَ حَسَرَ ضِیقُ الزُّقَاقِ الَّذِی أَجْرَی فِیہِ مَرْکُوبَہُ إِزَارَہُ عَنْ فَخِذِہِ ، فَیَکُونُ الْفِعْلُ لِجِدَارِ الزُّقَاقِ لاَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- وَیَکُونُ مُوَافِقًا لِرِوَایَۃِ غَیْرِہِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ مُوَافِقًا لِمَا مَضَی مِنَ الأَحَادِیثِ فِی کَوْنِ الْفَخِذِ عَوْرَۃً غَیْرُ مُخَالِفٍ لَہَا ، وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔
وَرَوَاہُ حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ عَنْ أَنَسٍ
وَقَالَ فِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْہُ: وَإِنَّ رُکْبَتِی لَتَمَسُّ رُکْبَۃَ رَسُولِ اللَّہِ-ﷺ- وَلَمْ یَذْکُرِ انْکِشَافَ الْفَخِذِ۔
(٣٢٣٩) (ب) صحابی کے قول انحسر یا اِنْکَشَفَ سے یہ دلیل نکلتی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قصداً ران خود ننگی نہیں کی تھی۔ سواری پر انسان کی ران یا ستر ہوا کی وجہ سے یا گرنے سے یا کسی اور وجہ سے بھی کھل سکتی ہے، لہٰذا یہ (قصداً ) کھولنے کی طرف منسوب نہ ہوگا۔
(ج) پہلی روایت میں صحابی کا قول ثُمَّ حَسَرَ الإِزَارَ عَنْ فَخِذِہِ ہوسکتا ہے میں یہ احتمال ہے کہ ران کھولنے سے مراد گلیوں کا تنگ ہونا ہو جن میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سواری کو دوڑا رہے تھے۔ اس صورت میں یہ عمل گلیوں کی دیواروں کے سبب ہوگا نہ کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عمل سے یہ دیگر روایتوں کے موافق ہوگا جو اسماعیل وغیرہ سے منقول ہیں اور ان احادیث کے بھی موافق ہوگا جن میں ران کو ستر کہا گیا ہے۔
(د) اور حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ میرا گھٹنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ران کو مس کررہا تھا۔ اس میں ران کے کھولنے کا ذکر نہیں کیا۔