(۳۲۴۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ: عَبْدُوسُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنِی حُمَیْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ۔
قَالَ أَبُو حَاتِمٍ قُلْتُ لِلأَنْصَارِیِّ: مَا مَعْنَی الْخَمِیسِ؟ قَالَ: الْجُنْدُ ، الْجَیْشُ۔
وَاحْتَجَّ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الْفَخِذَ لَیْسَتْ بِعَوْرَۃٍ بِشَیْئٍ یَرْوِیہِ فِی ذَلِکَ فِی قِصَّۃِ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ وَالثَّابِتُ مِنْ قِصَّۃِ عُثْمَانَ فِی ذَلِکَ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
(٣٢٤١) (ا) دوسری سند سے انس بن مالک (رض) سے یہی حدیث منقول ہے۔
(ب) ابوحاتم بیان کرتے ہیں : میں نے انصاری سے کہا : الخمیس کا کیا معنی ہے ؟ انھوں نے بتایا : جیش، لشکر۔
(ج) جو لوگ ران کو ستر نہیں مانتے انھوں نے اس موقف میں حضرت عثمان والی روایت سے بھی دلیل لی ہے جو اس بارے میں عثمان (رض) کے قصہ سے متعلق ہے۔