hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 3243

.

سنن البيهقي

3243
Sunan Al Bayhaqi
(۳۲۴۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ سَعِیدَ بْنَ الْعَاصِ أَخْبَرَہُ: أَنَّ عُثْمَانَ وَعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا تَحَدَّثَا أَنَّ أَبَا بَکْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَی فِرَاشِہِ لاَبِسٌ مِرْطَ عَائِشَۃَ ، فَأُذِنَ لأَبِی بَکْرٍ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ کَذَلِکَ ، فَقَضَی إِلَیْہِ حَاجَتَہُ ثُمَّ انْصَرَفَ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَذِنَ لَہُ وَہُوَ عَلَی ذَلِکَ الْحَالِ ، فَقَضَی إِلَیْہِ حَاجَتَہُ ثُمَّ انْصَرَفَ ، قَالَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ عَلَیْہِ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَقَالَ لِعَائِشَۃَ: ((اجْمَعِی عَلَیْکِ ثِیَابَکِ))۔قَالَ: فَقَضَیْتُ إِلَیْہِ حَاجَتِی ثُمَّ انْصَرَفْتُ۔قَالَ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا: یَا رَسُولَ اللَّہِ لَمْ أَرَکَ فَزِعْتَ لأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ کَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ۔فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَیِیٌّ ، وَإِنِّی خَشِیتُ إِنْ أَذِنْتُ لَہُ وَأَنَا عَلَی تِلَکَ الْحَالِ أَنْ لاَ یُبَلِّغَ إِلَیَّ حَاجَتَہُ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ وَغَیْرِہِ عَنْ یَعْقُوبَ وَأَخْرَجَہُ مِنْ حَدِیثِ عُقَیْلِ بْنِ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ وَلَیْسَ فِیہِ ذِکْرُ الْفَخِذِ وَلاَ السَّاقِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۲۴۰۲]
(٣٢٤٣) (ا) سعید بن عاص فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان اور سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آنے کی اجازت چاہی اور آپ سیدہ عائشہ (رض) کی چادر اوڑھے ہوئے بستر پر لیٹے ہوئے تھے۔ ابوبکر (رض) کو پاس آنے کی اجازت دی گئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی حالت میں رہے۔ انھوں نے اپنی ضرورت بیان کی اور چلے گئے، پھر عمر (رض) نے اجازت طلب کی انھیں بھی اجازت دی گئی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی حالت میں رہے انھوں نے بھی اپنی حاجت بیان کی اور چلے گئے۔ عثمان (رض) کہتے ہیں : پھر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت چاہی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھ کر بیٹھ گئے اور سیدہ عائشہ (رض) کو فرمایا : اپنے کپڑے سمیٹ لو۔ عثمان (رض) کہتے ہیں : میں نے ابھی اپنی حاجت آپ کے سامنے رکھی اور میں بھی چل پڑا۔ سیدہ عائشہ (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں نے آپ کو اس طرح فوراً اٹھتے اس وقت نہ دیکھا جب ابوبکر وعمر (رض) آئے جس طرح آپ عثمان (رض) کے آنے پر فوراً اٹھ بیٹھے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عثمان (رض) بہت حیا دار آدمی ہے مجھے ڈر تھا کہ میں اس کو اسی حالت میں اجازت دے دیتا تو شاید وہ اپنی حاجت بھی بیان نہ کر پاتے۔
(ب) صحیح مسلم کی روایت میں ران اور پنڈلی دونوں کا ذکر نہیں ہے۔