(۳۲۴۴) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ: الْحُسَیْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ بَرْہَانَ وَغَیْرُہُمَا قَالُوا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَۃَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْمَدِینِیُّ قَالَ حَدَّثَتْنِی حَفْصَۃُ بِنْتُ عُمَرَ قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ذَاتَ یَوْمٍ جَالِسًا قَدْ وَضْعَ ثَوْبَہُ بَیْنَ فَخِذَیْہِ ، فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنَ لَہُ ، وَالنَّبِیُّ -ﷺ- عَلَی ہَیْئَتِہِ ، ثُمَّ عُمَرُ بِمِثْلِ ہَذِہِ الْقِصَّۃِ ، ثُمَّ عَلِیٌّ ثُمَّ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِہِ وَالنَّبِیُّ -ﷺ- عَلَی ہَیْئَتِہِ ، ثُمَّ جَائَ عُثْمَانُ فَاسْتَأْذَنَ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ثَوْبَہُ فَتَجَلَّلَہُ - قَالَتْ عَائِشَۃُ - فَتَحَدَّثُوا ثُمَّ خَرَجُوا قَالَتْ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ جَائَ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعَلِیٌّ وَسَائِرُ أَصْحَابِکَ وَأَنْتَ عَلَی ہَیْئَتِکَ ، فَلَمَّا جَائَ عُثْمَانُ تَجَلَّلْتَ بِثَوْبِکَ۔قَالَتْ فَقَالَ: ((أَلاَ أَسْتَحْیِی مِمَّنْ تَسْتَحْیِی مِنْہُ الْمَلاَئِکَۃُ))۔
قَالَ الشَّیْخُ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو یَعْفُورٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ احمد ۶/ ۲۸۸]
(٣٢٤٤) عبداللہ بن سعید مدینی سے روایت ہے کہ حفصہ بنت عمر (رض) فرماتی ہیں : ایک روز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے کپڑے کو اپنی رانوں میں رکھے ہوئے بیٹھے تھے، ابوبکر (رض) آئے اور اجازت طلب کی، رسول اللہ نے انھیں اجازت دے دی اور آپ اسی طرح بیٹھے رہے، پھر عمر (رض) آئے اسی طرح ہوا۔ پھر علی (رض) آئے، پھر دیگر لوگ آتے جاتے رہے، آپ اسی طرح بیٹھے رہے، پھر سیدنا عثمان (رض) آئے اور اجازت چاہی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے کپڑے کو درست کیا۔ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ لوگ بیٹھے باتیں کرتے رہے اور چلے گئے۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ابوبکر (رض) آئے، عمر (رض) آئے، علی (رض) آئے اور آپ کے دیگر صحابہ (رض) آئے لیکن آپ اسی حالت میں بیٹھے رہے تو جب عثمان (رض) آئے آپ نے فوراً اپنے کپڑے کو درست کرلیا ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں اس آدمی سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔