(۳۲۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی یَحْیَی الأَسْلَمِیِّ عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ مَوْلَی الأَسْلَمِیِّینَ قَالَ: رَأَیْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَتَّزِرُ فَوْقَ السُّرَّۃِ۔
وَہَذَا لاَ یُخَالِفُ قَوْلَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ السُّرَّۃَ لَیْسَتْ بِعَوْرَۃٍ ، لأَنَّ مَنْ زَعَمَ ذَلِکَ عَقَدَ الإِزَارَ فَوْقَ السُّرَّۃِ لِیَسْتَوْعِبَ جَمِیعَ الْعَوْرَۃِ بِالسِّتْرِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۴۸۵۲]
(٣٢٤٩) (ا) اسلمین کے آزاد کردہ غلام ابوالعلاء سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) کو دیکھا، وہ تہبند ناف کے اوپر باندھتے تھے۔
(ب) یہ حدیث اس کے مخالف نہیں کہ ناف ستر نہیں ہے، کیونکہ انھوں نے تہبند ناف کے اوپر اس لیے باندھا ہے تاکہ مکمل ستر کو گھیر لے۔ وباللہ التوفیق