(۳۲۶۳) عبداللہ بن ابی سلمہr بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطابt نے لوگوں کو قبطی کپڑے پہنائے پھر فرمایا: اس سے اپنی عورتوں کی قمیص نہ بنانا تو ایک آدمی نے کہا: اے امیرالمومنین! میں نے اپنی بیوی کو پہنا دی ہے۔ اس کے بعد وہ گھر میں چلی پھری لیکن میں نے اس میں باریکی نہیں دیکھی۔ سیدنا عمرt نے فرمایا: اگر وہ باریک نہیں ہے تو ٹھیک ہے۔
(۳۲۶۴) أَخْبَرَنَاہُ الْفَقِیہُ أَبُو مَنْصُورٍ: عَبْدُ الْقَاہِرِ بْنُ طَاہِرٍ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ وَأَبُو نَصْرٍ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ وَأَبُو الْقَاسِمِ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ حَمْدَانَ الْفَارِسِیُّ وَأَبُو نَصْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ الصَّفَّارُ قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو: إِسْمَاعِیلُ بْنُ نُجَیْدٍ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ یَعْنِی التَّیْمِیَّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: تُصَلِّی الْمَرْأَۃُ فِی ثَلاَثَۃِ أَثْوَابٍ دِرْعٍ وَخِمَارٍ وَإِزَارٍ۔
وَرُوِّینَا عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ: أَنَّہَا صَلَّتْ فِی دِرْعٍ وَخِمَارٍ ثُمَّ قَالَتْ: نَاوِلِینِی الْمِلْحَفَۃَ۔
وَعَنْ عَائِشَۃَ نَحْوَ ذَلِکَ۔
وَعَنْ عَائِشَۃَ: أَنَّہَا سُئِلْتْ عَنِ الْخِمَارِ فَقَالَتْ: إِنَّمَا الْخِمَارُ مَا وَارَی الْبَشَرَ وَالشَّعَرَ۔
[ضعیف۔ اخرجہ مالک ۱۶۲۵]
(٣٢٦٤) (ا) حضرت عمر بن خطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ عورت تین کپڑوں میں نماز پڑھے : قمیص، چادر میں اور تہبند میں۔
(ب) ام سلمہ (رض) سے منقول ہے کہ انھوں نے قمیص اور چادر میں نماز پڑھی، پھر فرمایا : مجھے اوڑھنے والی چادر دے دو ۔
(ج) سیدہ عائشہ (رض) سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
(د) سیدہ عائشہ (رض) سے اوڑھنی کے بارے دریافت کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : چادر وہ ہوتی ہے جو جلد اور بالوں کو ڈھانپ لے۔