(۳۲۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا مُلاَزِمُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَدْرٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِیہِ طَلْقِ بْنِ عَلِیٍّ قَالَ: خَرَجْنَا إِلَی نَبِیِّ اللَّہِ -ﷺ- وَفْدًا حَتَّی قَدِمْنَا عَلَیْہِ فَبَایَعْنَاہُ وَصَلَّیْنَا مَعَہُ ، فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللَّہِ مَا تَرَی فِی الصَّلاَۃِ فِی الثَّوْبِ الْوَاحِدِ؟ فَأَطْلَقَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- إِزَارَہُ وَطَارَقَ بِہِ رِدَائَ ہُ ، وَاشْتَمَلَ بِہَا ، وَقَامَ فَصَلَّی بِنَا ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلاَۃَ قَالَ: ((أَوَکُلُّکُمْ یَجِدُ ثَوْبَیْنِ))۔
وَالأَحَادِیثُ الَّتِی رُوِّینَاہَا فِی صَلاَۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِہِ الْمُرَادُ بِہِ الرِّدَائُ أَوْ مَا یُشْبِہُ الرِّدَائَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ معنی تخریجہ فی ۳۳۸۸]
(٣٢٩٨) (ا) قیس بن طلق اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم وفد کی صورت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف گئے۔ ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیعت کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا : اے اللہ کے نبی ! ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ازار بند کو چھوڑ دیا اور اس کے ساتھ اپنی چادر بھی چھوڑ دی اور اس چادر کو لپیٹ لیا اور کھڑے ہوگئے ۔ پھر ہمیں نماز پڑھائی۔ جب آپ نماز پڑھا چکے تو فرمایا : کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے میسر ہیں ؟
(ب) وہ احادیث جو ہمیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھنے کے بارے میں بیان کی گئی ہیں ان سے مراد چادر یا اس جیسا کوئی اور کپڑا ہے۔ واللہ اعلم