(۳۳۱۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا عَامِرٌ الأَحْوَلُ قَالَ: سَأَلْتُ عَطَائٌ عَنِ السَّدْلِ فَکَرِہَہُ فَقُلْتُ: أَعَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-؟ فَقَالَ: نَعَمْ۔
وَہَذَا الإِسْنَادُ وَإِنْ کَانَ مُنْقَطِعًا فَفِیہِ قُوَّۃٌ لِلْمَوْصُولَیْنَ قَبْلَہُ۔
وَرُوِّینَا عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ أَنَّہُ صَلَّی سَادِلاً۔
وَکَأَنَّہُ نَسِیَ الْحَدِیثَ أَوْ حَمَلَہُ عَلَی أَنَّ ذَلِکَ إِنَّمَا لاَ یَجُوزُ لِلْخُیْلاَئِ ، وَکَانَ لاَ یَفْعَلُہُ خُیَلاَئً وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔وَقَدْ رُوِیَ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [منکر۔ اخرجہ عبدالرزاق]
(٣٣١٠) عامر احول بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کپڑا لٹکانے کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے اسے مکروہ کہا۔ میں نے پوچھا : کیا یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے ؟ انھوں نے فرمایا : ہاں ثابت ہے۔
نوٹ : نماز میں سر یا کندھوں سے دونوں طرف کپڑا لٹکانا سدل کہلاتا ہے۔
(ب) ہمیں عطاء بن ابی رباح کے حوالے سے روایت بیان کی گئی کہ انھوں نے کپڑا لٹکا کر نماز ادا کی ۔
(ج) شاید وہ یہ حدیث بھول چکے ہوں یا انھوں نے اس پر محمول کیا ہو کہ یہ صرف تکبر کی نیت سے جائز نہیں اور انھوں نے تکبر کی نیت سے نہ کیا ہو۔ واللہ اعلم